Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5758

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَتٰى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟قَالَ:«وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قالوا: يا رسول الله متى وجبت لك النبوة؟قال:«وآدم بين الروح والجسد»رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کے لئے نبوت کب ثابت ہوئی فرمایا جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱؎یعنی جب کہ حضرت آدم کے جسم میں روح پھونکی نہ گئی تھی اس وقت ہم نبی تھے۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ہم علم الٰہی میں نبی تھے کہ اللہ تعالٰی جانتا تھا کہ ہم نبی ہوں گے کیونکہ اللہ تعالٰی تو تمام انبیاءکرام کی نبوت کو جانتا تھا پھر اس میں حضور کی خصوصیت کیا،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور کی نبوت کا اعلان اس وقت ہوچکا تھا،فرشتے حضور پر کروڑوں سال سے درود پڑھ رہے تھے،تمام روحوں کے سامنے سارے نبیوں سے حضور پر ایمان لانے،آپ کی نصرت و مدد کرنے کا عہد و پیمان لیا گیا تھا "وَ اِذْ اَخَذَ اللهُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ"الخ۔عرش اعظم،آسمان،جنت کے محلوں،دریچوں میں،وہاں کے درختوں کے پتوں پر،حوروں کی پتلیوں میں،فرشتوں کی آنکھوں میں،غلمان کے سینوں پر، طوبیٰ کے غنچہ و گل میں حضور انور کا نام لکھ دیا گیا تھا،ان شاءاللهہم لوگ بھی وہاں جاکر یہ ساری بہار اپنی آنکھوں دیکھیں گے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ عالم ارواح میں حضور سارے نبیوں کے نبی تھے،آپ ان کی روحوں کو تعلیم و تربیت دیتے تھے،سارے نبی حضور کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرکے دنیا میں تشریف لائے اور حضور سے سیکھے ہوئے علوم مخلوق کو سکھائے۔(اشعۃ اللمعات)اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔چنانچہ ابن سعد نے اور ابو نعیم نے حلیہ میں،طبرانی نے کبیر میں حضرت ابن عباس سے یوں روایت کیکنت نبیا و آدم بین الروح والجسد،امام احمد نے اور بخاری نے اپنی تاریخ میں اور حاکم نے اور ابونعیم نے دلائل میں حضرت ابوہریرہ سے مرفوعًا روایت کیکنت اول النبی فی الخَلق واخرھم فی البعثہم پیدائش میں تمام نبیوں سے پہلے ہیں بعثت میں سب کے بعد،دانہ درخت سے پہلے زمین میں جاتا ہے اور آخر میں وہ ہی دانہ نمودار ہوتا ہے،ہم نے عرض کیا؎باغ رسالت کی ہیں جڑ اور ہیں بہار آخری مبداء جو اس گلشن کے تھے وہ منتہی یہ ہی تو ہیں
خیال رہے کہ جسمانی نبوت کے لیے شرط ہے کہ نبی انسان ہوں اور انسانی سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوجاتا ہے، روحانی نبوت کے لیے یہ شرط نہیں۔لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ نبی انسان ہونے چاہئیں،اس وقت حضور صفت انسانیت سے موصوف نہ تھے،یا یوں کہو کہ انسانیت کے لیے اولاد آدم ہونا ضروری حضرت بی بی حوا انسان ہیں مگر اولاد آدم نہیں،یوں ہی جو مخلوق جنت بھرنے کے لیے پیدا کی جاوے گی وہ انسان ہوگی مگر اولاد آدم نہ ہوگی لہذا اس وقت بھی حضور انسانیت کی صفت سے موصوف تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5758