Main Icon

باب:مہر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3204

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا صَدُقَةَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا وَتَقْوَى عِنْدَ اللّٰهِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَتَيْ عشْرَةَ أُوقِيَّهً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

عن عمر بن الخطاب قال: ألا لا تغالوا صدقة النساء، فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم ، ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه، ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عشرة أوقيه. رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرمایا،خبردار عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کیا کرو ۱؎کیونکہ اگر یہ دنیا میں عزت اور اکے نزدیک پرہیزگاری ہوتا تو اس کے زیادہ مستحق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہوتے ۲؎مجھے نہیں خبر کے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کسی بیوی سے نکاح کیا ہو یا اپنی کسی بیٹی کا نکاح کرایا ہو بارہ اوقیہ سے زیادہ پر ۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں روئے سخن ان لوگوں سے ہے جو زیادتی مہر کو اپنے لیے فخر سمجھتے تھے جیسے آج بھی یوپی،سی پی میں عمومًا مسلمان زیادتی مہر پر فخر کرتے ہیں لاکھ سوا لاکھ کا مہر ہوتا ہے حالانکہ دولہا کی حیثیت دو ہزار کی بھی نہیں ہوتی سوچتے ہیں کہ مہر فقط ایک رسم ہے دیتا کون ہے۔
۲
؎کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم دنیا میں بڑی عزتوں کے مالک ہیں اور اتعالٰی کے نزدیک تو ان کی شان کا کوئی ہے ہی نہیں رب تعالٰی نے ہر عزت حضور پر ختم فرمادی اگر زیادتی مہر بھی عزت ہوتی تو رب تعالٰی یہ بھی اپنے محبوب کو عطا فرماتا۔
۳
؎اس فرمان میں کسر کا شمار نہیں فرمایا ورنہ حضور انور کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا لہذا یہ حضر ت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان کا مہر چار ہزار درہم تھا مگر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررنہیں کیا تھا بلکہ نجاشی شاہ حبشہ کا مقرر کردہ تھا یہ بھی خیال رہے کہ رب تعالٰی کا فرمان"وَاٰتَیۡتُمْ اِحْدٰىہُنَّ قِنۡطَارًا"بیان جواز کے لیے ہے اور جناب عمر کا فرمان عالی بیان استحباب کے لیے لہذا یہ فرمان قرآن کریم کے خلاف نہیں یا یہاں زیادہ مہر مقرر نہ کرنے کا ذکر ہے اور قرآن مجید میں زیادہ مہر جو ادا کردیا جائے واپس نہ لینے کا ذکر لہذا دونوں میں تعارض نہیں جناب فاطمہ زہرا کا مہر چار سو مثقال چاندی یعنی ڈیڑھ سو تولہ تھا یہ جو مشہو رہے کہ آپ کا مہر انیس۱۹ مثقال سونا تھا اس سے مراد مہر معجل ہے کیونکہ جناب علی مرتضی نے اپنی زرہ آپ کو دی جو انیس مثقال سونے کی تھی۔(مرقات)
لطیفہ:یہاں مرقات نے ایک عجیب لطیفہ بیان فرمایا کہ ایک بار حضرت عمر نے حکم دیا کہ کوئی شخص چالیس اوقیہ سے زیادہ مہر مقرر نہ کرے اگر کرے گا تو زیادتی بیت المال میں داخل کردی جائے گی اس پر ایک عورت نے عرض کیا رب تعالٰی فرماتا ہے: "
وَاٰتَیۡتُمْ اِحْدٰىہُنَّ قِنۡطَارًا"تم زیادتی بیت المال میں کیسے داخل کرو گے تو حضرت عمر نے فرمایا آج ایک عورت سچ کہہ رہی ہے اور مرد غلطی پر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3204