Main Icon

باب:مہر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3205

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَتِهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من أعطى في صداق امرأته ملء كفيه سويقا أو تمرا فقد استحل". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو اپنی بیوی کے مہر میں لپ بھر ستو یا چھوارے دے دے اس نے اسے حلال کرلیا ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ مہر کی کم مقدار بھی مقرر نہیں جو چاہے مقرر کردے،کیونکہ ایک لپ ستو یا چھوارے عرب میں ایک درہم کے بھی نہیں ہوتے،ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اسنادًا صحیح نہیں اگر صحیح ہو بھی تو اس سے مہر معجل یعنی نکاح کے وقت کا چڑھاوا مراد ہے اسی لیے یہاںاعطیٰفرمایا گیا ورنہ مہر فورًا ادا کرنا لازم نہیں۔مطلب یہ ہے کہ جو شخص نکاح کے وقت کوئی معمولی سی چیز بھی عورت کو ہدیۃً دے دے تو عرف ورسم عرب کے لحاظ سے بھی اس نے اپنے پر عورت کو حلال کردیا،حلال سے مراد رکاوٹ دور ہونا ہے نہ کہ شرعی حلال کیونکہ بغیر کچھ دیئے بھی عورت صرف نکاح سے حلال ہوجاتی ہے،ابوداؤد نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ میں ایک منکوحہ عورت کو اس کے خاوند کے پاس رخصت کرکے بھیج دوں اگرچہ خاوند کچھ نہ دے(مرقات)حضرت ابن عباس،ابن عمر،امام زہری فرماتے ہیں کہ بہتر یہ ہی ہے کہ عورت کو بغیر کچھ دیئے زفاف نہ کرے ان کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے،یہ حدیث چند وجوہ سے ضعیف ہے: اس کی اسناد میں مبشر ابن عبید اور حجاج ابن ارطات ہیں،یہ دونوں محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، نیز اس میں اسحاق ابن حسن بھی ہیں جومجہول ہیں،مسلم ابن رومان بھی ہیں جن کے حالات سے محدثین بے خبر ہیں۔(ازمرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3205