Main Icon

باب:مہر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3209

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الإِسْلَامُ أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ، فَخَطَبَهَا فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فَإِنْ أَسْلَمْتَ نَكَحْتُكَ، فَأَسْلَمَ، فَكَانَ صَدَاقَ مَا بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

وعن أنس قال: تزوج أبو طلحة أم سليم، فكان صداق ما بينهما الإسلام أسلمت أم سليم قبل أبي طلحة، فخطبها فقالت: إني قد أسلمت، فإن أسلمت نكحتك، فأسلم، فكان صداق ما بينهما. رواه النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم سے نکاح کیا ۱؎تو ان کے درمیان مہر اسلام تھا کہ حضرت ام سلیم ابوطلحہ سے پہلے اسلام لائیں پھر انہیں نے پیغام نکاح دیا۔تو وہ بولیں کہ میں مسلمان ہوچکی ہوں اگر تم بھی مسلمان ہو جاؤ تو تم سے نکاح کرلوں چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے پھر یہ ان کے آپس میں مہر ہوا ۲؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابوطلحہ کا نام زید ابن سہل ہے،انصاری بخاری ہیں اپنی کنیت میں مشہور ہوئے اور ام سلیم کے نام میں اختلاف ہے بنت ملحان ہیں پہلے مالک ابن نضر کے نکاح میں تھیں ان سے حضرت انس پیدا ہوئے پھر مالک بحالت شرک قتل کیے گئے تب حضرت ابوطلحہ نے نکاح کا پیغام دیا تب حضرت ام سلیم نے وہ جواب دیا جو آگے آرہا ہے۔
۲
؎یہ حدیث ظاہری معنی سے تمام اماموں کے خلاف ہے کیونکہ تمام آئمہ کے ہاں یہ شرط ہے کہ مہر مال ہو،رب تعالٰی فرماتا ہے: "اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ"لہذا اس جملہ کے معنے یا تو یہ ہیں کہ حضرت ام سلیم نے مہر معاف کردیا ان کے اسلام کی وجہ سے یا یہ مطلب ہے کہ مہر معجل یعنی نکاح کا چڑھاوا کچھ نہ لیا،بہرحال یہ جملہ قابل تاویل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3209