Main Icon

باب:مہر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3203

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّهً وَنَشٌّ، قَالَتْ: أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُ مِئَةِ دِرْهَمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَ (نَشٌّ) بِالرَّفْعِ فِي "شَرْحِ السُّنَّة" وَفِي "جَمِيع الأُصُول".

وعن أبي سلمة قال: سألت عائشة: كم كان صداق النبي صلى الله عليه وسلم ؟ قالت: كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقيه ونش، قالت: أتدري ما النش؟ قلت: لا، قالت: نصف أوقية فتلك خمس مئة درهم. رواه مسلم، و (نش) بالرفع في "شرح السنة" وفي "جميع الأصول".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے فرماتے ہیں میں نے جناب عائشہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا مہر کتنا تھا ۱؎فرمایا آپ کا مہر اپنی بیویوں کے متعلق بارہ اوقیہ اور نش تھا ۲؎بولیں کیا تم جانتے ہو کہ نش کیا ہے میں نے کہا نہیں فرمایا آدا اوقیہ تو یہ پانچ سو درہم ہوئے(مسلم)اور نش پیش سے ہے شرح سنہ اور تمام کتب اصول میں۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ سوال عام ازواج پاک کے مہر کے متعلق تھا ورنہ بی بی ام حبیبہ کا مہر چار ہزار درہم تھا جو نجاشی شاہ حبشہ نے ادا کیا تھا۔
۲
؎یعنی ساڑھے بارہ اوقیہ مہر تھا ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے کل پانچ سو درہم یعنی تقریبًا ایک سو پینسٹھ روپے ہوئے درہم ساڑھے چار آنہ کا ہوتا ہے۔
۳
؎نش ن کے پیش اور شین کےشد سے بمعنی نصف روٹی اور ہر نصف کو نش کہتے ہیں مشکوۃ کے بعض نسخوں میںنُشًافتح سے ہے مگر پیش کی روایت شرح وغیرہ کتب کے موافق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3203