Main Icon

باب:مہر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3207

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا شَيْئًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشَقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ، فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن علقمة عن ابن مسعود: أنه سئل عن رجل تزوج امرأة ولم يفرض لها شيئا، ولم يدخل بها حتى مات فقال ابن مسعود: لها مثل صداق نسائها، لا وكس ولا شطط، وعليها العدة، ولها الميراث، فقام معقل بن سنان الأشجعي فقال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بروع بنت واشق امرأة منا بمثل ما قضيت، ففرح بها ابن مسعود. رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علقمہ سے وہ حضر ت ابن مسعود سے راوی ۱؎کہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے کچھ مقرر نہ کیا اور نہ اس سے صحبت کی حتی کہ مرگیا ۲؎تو جناب ابن مسعود نے فرمایا کہ اس عورت کے لیے اپنی جیسی عورتوں کا مہر ہے جس میں نہ کمی ہو نہ زیادتی اور اس پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے میراث بھی ۳؎تو معقل ابن سنان اشجعی اٹھے ۴؎فرمایا کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے قبیلہ کی ایک عورت بروع بنت واشق کے متعلق ایسا ہی فیصلہ فرمایا۵؎جیسا آپ نے فیصلہ کیا تب ابن مسعود اس سے بہت خوش ہوئے۔۶؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)۷؎

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ علقمہ ابن ابی علقمہ ہیں علقمہ کا نام بلال ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں مشہور تابعی ہیںواﷲ اعلم۔علقمہ ابن ابی وقاص نہیں وہ تو صحابی ہیں۔
۲
؎صورت مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک عورت سے بغیر مہر نکاح کیا یا تو مہر کا ذکر ہی نہیں کیا یا مہر کی نفی کردی کہ مہر کچھ نہ دوں گا یا ایسی چیز مہر مقرر کی جو مہر بننے کے قابل نہیں مثلًا ہوا یا پانی کے گلاس پر نکاح کیا پھر خلوت صحیحہ سے پہلے مر گیا تو اس کی عورت کو مہر ملے گا یا نہیں اگر ملے گا تو کیا ؟
۳
؎خلاصہ جواب یہ ہوا کہ اس عورت کو پورا مہر مثل ملے گا عدت وفات واجب ہوگی یعنی چار ماہ دس دن اور چوتھائی متروکہ مال میراث میں ملے گا۔حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے یہ فتویٰ تو دیا مگر دل میں خیال کرتا تھا کہ نہ معلوم صحیح ہے یا غلط کیونکہ آپ نے اس کے متعلق حدیث نہیں سنی تھی،قرآن کریم سے یہ حکممستنبطکیا تھا کہ کیا یہ خبر استنباط صحیح ہے یا نہیں۔ (مرقات مع زیادت)
۴
؎آپ صحابی ہیں فتح مکہ کے دن غزوہ میں شریک تھے قوم اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں جنگ حرہ کے دن اپنے بیٹے کے ساتھ شہیدہوئے(اشعہ)
۵
؎یعنی یہ ہی صورت مسئلہ بارگاہ رسالت میں پیش ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بالکل یہ ہی حکم دیا تھا،آپ کا اجتہاد حدیث کے موافق ہے۔خیال رہے کہ یہ حکم وفات کی صورت میں ہے، اگر ایسی عورت کو خلوت سے پہلے طلاق ہوجائے تو نہ اس پر عدت ہے نہ مہر بلکہ کپڑوں کا ایک جوڑا ملے گا طلاق کی عدت خلوت سے واجب ہوتی ہے اور مہر مثل کبھی بھی آدھا ہو کر نہیں ملتا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے ان کا مذہب بعینہ وہی ہے بعض اماموں کے ہاں اس صورت میں عورت کو مہر نہیں ملتا۔
۶
؎روایات میں ہے کہ حضرت ابن مسعود یہ سن کر ایسے خوش ہوئے کہ اسلام کے بعد ایسی خوشی آپ کو کبھی نہ ہوئی تھی۔
۷
؎بیہقی نے فرمایا کہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے جو سب صحیح ہیں۔واﷲ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3207