Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4494

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزَاةٍ فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُهٗ عَلَى البَابِ فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ فَجَذَبَهٗ حَتّٰى هَتَكَهٗ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنها أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج في غزاة فأخذت نمطا فسترته على الباب فلما قدم فرأى النمط فجذبه حتى هتكه ثم قال إن الله لم يأمرنا أن نكسو الحجارة والطين (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جہاد میں تشریف لے گئے تو میں نے ایک باریک چادر بنائی پھر میں نے اسے دروازے پر ڈالدیا ۱∞؎جب حضور تشریف لائے تو چادر دیکھی تو اسے کھینچا حتی کہ اسے پھاڑ دیا ۲؎پھر فرمایا کہ اللہ نے ہم کو یہ حکم نہیں دیا کہ ہم پتھروں اور مٹی کو پہنائیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نمطوہ باریک چادر جو بستر پر بچھائی جاوے زیبائش کے لیے،اس کی جمعانماطہے،دروازے پر اس کا ڈالنا زینت کے لیے تھا نہ کہ پردہ کے لیے۔
۲
؎یہ پھاڑنا مال کی بربادی نہیں بلکہ برائی کا مٹانا ہے اورعملی تبلیغ اور اظہار ناراضی لہذا یہ عمل عبادت ہے۔
۳
؎تکلفًا بلا ضرورت دروازوں دیواروں چھتوں پر غلاف ڈالنا بہتر نہیں،چونکہ اہلِ بیت اطہار کی شان بہت اعلیٰ ہے اس لیے حضور نے انہیں اس سے بھی منع فرمایا۔(اشعہ)خیال رہے کہ غلاف کعبہ،غلاف روضۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم،بزرگانِ دین کے قبور کی غلاف و چادریں،قرآن پاک کے جزدان وغیرہ اس حکم میں داخل نہیں کہ وہاں دیواروں کا پہنانا مقصود نہیں بلکہ وہاں اس دینی محترم چیزوں کی عظمت کا اظہار ہے۔کعبہ،قرآن،روضۂ رسول،مزارات اولیاء اللہ شعائر اللہ ہیں اور شعائر اللہ کی تعظیم رکن ایمانی ہے،دیکھو اس کی تحقیق شامی جلد اول میں اور ہماری کتاب جاء الحق میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4494