Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4492

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نَمْرَقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى البَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَارَسُولَ اللّٰهِ أَتُوبُ إِلَى اللّٰهِ وَإِلَى رَسُولِهٖ، مَاذَا أَذْنْبْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هٰذِهِ النَّمْرَقَةِ؟» قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هٰذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ". وَقَالَ:«إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنها أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب فلم يدخل فعرفت في وجهه الكراهية قالت: فقلت: يارسول الله أتوب إلى الله وإلى رسوله، ماذا أذنبت ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما بال هذه النمرقة؟» قلت: اشتريتها لك لتقعد عليها وتوسدها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة ويقال لهم: أحيوا ما خلقتم ". وقال:«إن البيت الذي فيه الصورة لا تدخله الملائكة (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصویریں تھیں ۱∞؎پھر جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اندر نہ آئے ۲؎میں نے آپ کے چہرے میں ناپسندیدگی محسوس کی۳؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں اللہ رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۴؎میں نے کیا گناہ کیا ۵؎تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس پردہ کا کیا حال ہے میں نے عرض کیا کہ یہ میں نے آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور آپ اس سے تکیہ لگائیں ۶؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں والے لوگ قیامت کے دن عذاب دیئے جائیں گے ۷؎ان سے کہا جاوے گا کہ جو تم نے بنایا ۸؎انہیں زندہ کرو ۹؎اور فرمایا کہ وہ گھر جس میں تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے ۱۰؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نمرقہن اور ر کے کسرہ سے بھی آتا ہے اور ان دونوں کے پیش سے بھی۔تکیہ،پردہ،زین پر ڈالنے کی چادر ان سب کونمرقہکہا جاتا ہے۔غالبًا یہ پردہ تھا جو دروازہ پر لٹکایا گیا تھا اس میں جاندار چیزوں کی تصویریں تھیں۔
۲
؎اظہارِ ناراضگی کے لیے یہ عملی تبلیغ ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر با اثر عالم یا شیخ کسی فسق کی جگہ نہ جائے تو فسق بند ہو جاوے ایسی صورت میں ہرگز نہ جائے اور اگر اس کے نہ جانے سے اثر نہ پڑے تو جاسکتا ہے اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۳
؎آپ میں مزاج شناسی رسول حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ شریف سے کچھ نہ فرمایا مگر آپ نے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار معلوم کرلیے۔
۴
؎سبحان الله!کیسا ایمان افروز کلمہ ہے اس عرض معروض سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اللہ کے ساتھ حضور کا نام لینا بغیر فاصلہ کے بالکل جائز ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"اَغْنٰہُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ رسول بھلا کرے،اللہ رسول کی بڑی مہربانی ہے۔دوسرے یہ کہ توبہ اور دوسری عبادات میں اللہ کے ساتھ حضور کو راضی کرنے کی نیت کرنا بالکل جائز ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَاللّٰهُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"اور فرماتاہے:"وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰهِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔صوفیا فرماتے ہیں کہ ہر گناہ میں اللہ تعالیٰ کی بھی نارضگی ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"ہر گناہ سے دو حق تلفیاں ہوتی ہیں لہذا ہر گناہ کی توبہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی کرے اور حضور کی بارگاہ میں بھی دونوں ذاتوں سے معافی چاہیے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ دوبارہالیفرمانے سے معلوم ہوا کہ دونوں ذاتوں کی طرف رجوع کرنا مشکل ہے کوئی کسی کے تابع نہیں۔
۵
؎سبحان الله!گناہ کے علم سے پہلے توبہ کرلی حضور کو راضی کرنے کے لیے رب فرماتاہے:"عَفَا اللّٰهُ عَنۡکَ لِمَ اَذِنۡتَ لَہُمْ"خطا کے ذکر سے پہلے معافی کا اعلان۔
۶
؎یعنی میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ کپڑا یا تکیہ آپ کی خاطر خریدا ہے اپنے لیے نہیں خریدا مجھے خبر نہ تھی کہ حضور اس سے ناراض ہوں گے۔
۷
؎اس فرمان سے معلوم ہورہا ہے کہ تصویریں بنانے والے اور ان کو شوقیہ رکھنے والے دونوں ہی اس مذکور ہ سزا کے مستحق ہیں کیونکہ ام المؤمنین نے یہ تصاویر بنائی نہ تھیں صرف رکھی تھیں اور حضور نے یہ ارشاد فرمایا۔(مرقات)اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شوقیہ تصویر کھچوانا بھی حرام ہے کہ تصویر کھچوانے اور تصویر رکھنے میں تصویر بنانے والے کی امداد ہے گناہ پر مدد کرنا بھی گناہ ہے۔
۸
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس جگہ تصویر والوں سے مراد تصویر بنانے والے اور تصویر استعمال کرنے سب ہی ہیں اور ان سب پر یہ عتاب ہوگا مگر اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اس سے مراد صر ف تصویر بنانے والے ہیں کیونکہخلقتمانہیں سے کہا جاسکتا ہے بہرحال تصویر بنانا سخت حرام اور تصویر کچھوانا اسے حرمت سے رکھنا اس لیے حرام ہے کہ یہ گناہ پر مدد ہے۔
۹
؎یہ حکم تعجیزی ہے جیسے"فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثْلِہٖ"میں ہے یعنی اس فرمان کا مقصود مصورین کو عاجز کرنا ہے نہ کہ انہیں روح پھونکنے کا حکم دینا۔معلوم ہوا کہ ہر حکم وجوب کے لیے نہیں ہوتا۔
۱۰
؎یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اگرچہ بعض تصویروں کا رکھنا جائز ہے مگر ان سے بھی رحمت کے فرشتے نہیں آتے کیونکہ تکیہ میں تصویر ہو تو جائز ہے کہ اس میں تصویر کا احترام نہیں پھر بھی حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح کی تصویروں سے بھی فرشتے رحمت کے نہیں آتے۔مگر حق یہ ہے کہ جس تصویر کا رکھنا شرعًا جائز ہو اس سے رحمت کے فرشتے نہیں رکتے،جس کا رکھنا ممنوع ہے اس سے رکتے ہیں،اگر یہ تصاویر ذلت سے پڑی تھیں تب یہ فرمان عالی تقویٰ کی تعلیم کے لیے ہے کہ ہمارے اہلِ بیت کو اس طرح تصویریں رکھنا بھی مناسب نہیں،اگر احترام سے تھیں تو یہ فرمان اپنی حقیقت پر ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ جس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے اس لیے حضور گھر میں نہ آئے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4492