Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4493

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ قَدِ اتَّخَذَتْعَلٰى سَهْوَةٍ لَهَا سِتْرًا فِيهِ تَمَاثِيلُ فَهَتَكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ نُمْرُقتَيْنِ فَكَانَتَا فِي الْبَيْتِ يَجْلِسُ عَلَيْهِمَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنها: أنها كانت قد اتخذتعلى سهوة لها سترا فيه تماثيل فهتكه النبي صلى الله عليه وسلم فاتخذت منه نمرقتين فكانتا في البيت يجلس عليهما. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ انہوں نے اپنے ایک طاق پر پردہ ڈالا جس میں تصویریں تھیں تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھاڑ دیا ۱∞؎پھر انہوں نے اس کے دو تکیے گھر میں بنالیے جن پر حضور بیٹھتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ وہ طاق وغیرہ پر لٹکانے کے قابل نہ رہا تب اسے بچھانا پڑا لٹکانے اور بچھانے کے احکام میں فرق ہے۔
۲
؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر تصاویر بستر یا فرش میں ہوں جو پاؤں تلے تصویریں روندی جاتی ہوں تو جائز ہے یہ حدیث بظاہر پچھلی حدیث کے مخالف معلوم ہوتی ہے کہ وہاں تو تکیوں کی تصاویر سے منع فرمایا گیا اور یہاں اس کی اجازت دی گئی لہذا یا تو یہ تصویریں جاندار کی نہ تھیں اور اس پردہ کو پھاڑنا اس لیے تھا کہ دیواروں چھت پرغلاف ڈالنا دنیاوی تکلف ہے جس سے اہلِ بیت کو بچنا چاہیے اور اگر جاندار کی تصاویر تھیں تو انکے سر کاٹ دیئے گئے تھے جن سے انکا استعمال جائز ہوگیا لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں۔(اشعۃ اللمعات)خیال رہے کہ یہ فرق حکم استعمال تصویر کے لیے ہے،رہی تصویر سازی وہ مطلقًا حرام ہے خواہ فرش پر ہو یا بستر میں یا کاغذ یا شیشہ میں یا دیوار وغیرہ میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4493