Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4501

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلَّا أَنَّهٗ كَانَ عَلَى البَابِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي عَلٰى بَابِ الْبَيْتِ فَيُقْطَعْ فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُجْعَلْ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِ تُوطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ ". فَفَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أتاني جبريل عليه السلام قال: أتيتك البارحة فلم يمنعني أن أكون دخلت إلا أنه كان على الباب تماثيل وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل وكان في البيت كلب فمر برأس التمثال الذي على باب البيت فيقطع فيصير كهيئة الشجرة ومر بالستر فليقطع فليجعل وسادتين منبوذتين توطآن ومر بالكلب فليخرج ". ففعل رسول الله صلى الله عليه وسلم. رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس جناب جبریل آئے بولے کہ میں آج رات آپ کے پاس آیا تھا ۱∞؎مجھے داخل ہونے سے کسی چیز نے نہ روکا بجز اس کے کہ دروازے پر تصاویر تھیں اور گھر میں باریک کپڑے کا پردہ تھا جس میں تصاویر تھیں ۲؎اور گھر میں کتا تھا ۳؎پس آپ حکم دیجئے کہ ان تصویروں کے سر کاٹ دیئے جاویں جو گھر کے دروازے پر ہیں تاکہ وہ درخت کی طرح رہ جاویں ۴؎اور پردہ کے متعلق حکم دیجئے کہ کاٹ دیا جاوے اورا س کے دو تکیے بنادیئے جاویں جو پھٹکے رہیں ۵؎روندھے جاویں اورحکم دیجئے کہ کتا نکال دیا جاوے ۶؎چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہی کیا۔(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی زیارت آپ کی ملاقات کے لیے نہ کہ وحی الٰہی لےکر جیساکہ ظاہر ہے۔
۲
؎قرامق کے کسرہ سے بمعنی باریک نقشین۔ستر کے معنی ہیں پردہ یعنی گھر کے دروازے پرجو پردہ تھا وہ باریک نقشین کپڑے کا تھا جس میں جاندار چیزوں کی تصویریں تھیں،پردہ کا باریک یا نقشین ہونا مضر نہیں ہاں اس پر تصویریں ہونا مضر ہے،حضرت جبریل کی آمد سے رکاوٹ۔
۳
؎یعنی باہر سے آیا ہوا کتا جو آپ کے گھر میں آکر بیٹھ گیا تھا ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ازواج پاک نے کتا کبھی نہ پالا۔ معلوم ہوا کہ باہر سے آکر بیٹھ جانے والا کتا بھی ملائکہ رحمت کے آنے سے مانع ہوجاتا ہے اس سے بھی احتیاط چاہیے۔
۴
؎یعنی دروازے کی دیوار یا تختے پرجو تصویریں ہیں ان کی وجہ سے نہ تو دیوار گرائی جاوے نہ پوری تصویر مٹائی جاوے بلکہ انکے سر کاٹ دیئے جاویں سر کے مٹنے سے وہ حیوانی نہ رہے گی جسم حیوان رہے گا جو درخت کے مشابہہ ہے۔خیال رہے کہ صرف چہرے کے فوٹو کی پرستش تو ہوتی ہے اگرچہ باقی جسم نہ ہو مگر بغیر سر صرف جسم کے فوٹو کی پرستش کوئی نہیں کرتا اس لیے بغیر جسم کے صرف چہرے کا فوٹو رکھنا ممنوع ہے مگر بغیر سر کے صرف جسم کا فوٹو یا تصویر رکھنا ممنوع نہیں یہ مسئلہ اسی حدیث سے مستنبط ہوتا ہے۔اس کی پوری تفصیل کتب فقہ میں دیکھو بلکہ اگر سر کا حصہ الگ نہ کیا جاوے صرف ناک کان ہونٹ کا نقش مٹا دیا جاوے جب بھی جائز ہے۔
۵
؎یعنی ان کا احترام باقی نہ رہے پاؤں سے روندے جائیں۔اس سے ۔معلوم ہوا کہ فرش زمین میں یا فرش دری میں اگر تصاویر ہوں تو حرج نہیں کہ ان تصاویر کی حرمت کوئی نہیں،تصاویر کی حرمت ہی سخت حرام ہے،ہاں تصویر والے فرش پر نماز پڑھنا ممنوع ہے جب کہ اس پر سجدہ ہوتا ہو۔
۶
؎اس طرح کہ آئندہ کتا گھر میں نہ آنے پائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4501