Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4506

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى رَجُلًا يَتَّبِعُ حَمَامَةً فَقَالَ: شَيْطَانٌ يَتَّبِعُ شَيْطَانَةً . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبِيهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا يتبع حمامة فقال: شيطان يتبع شيطانة . رواه أحمد وأبوداود وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ کبوتر کے پیچھے دوڑ رہا ہے تو فرمایا شیطان شیطانہ کا پیچھا کررہا ہے ۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎کبوتر باز کو شیطان فرمایا اور کبوتر بازی کو شیطانہ کیونکہ جو چیز رب تعالیٰ سے غافل کردے وہ بھی شیطان ہے اور غافل ہوجانے والا بھی شیطان۔خیال رہے کہ کبوتر پالنا جائز ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد بلکہ مسجد حرام میں بہت کبوتر پلے ہوئے ہیں،پہلے زمانہ میں کبوتروں سے پیغام رسانی کا کام لیا جاتا تھا مگر کبوتر بازی کرنا ممنوع ہے،ہر بازی ممنوع ہے کہ یہ نماز تلاوت بلکہ دنیاوی ضروری کاموں سے غافل کردیتی ہے جیسے مرغ،بٹیر پالنا جائز مگر مرغ بازی،بٹیر بازی،تیتر بازی اور انہیں لڑانا حرام ہے خصوصًا جب کہ اس پر مالی ہار جیت ہو کہ اب یہ جواءبھی ہے۔مرقات میں فرمایا کہ صرف اڑانے کے لیے کبوتر پالنا مکروہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4506