Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4496

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُواذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيْرَةً "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " قال الله تعالى: ومن أظلم ممن ذهب يخلق كخلقي فليخلقواذرة أو ليخلقوا حبة أو شعيرة "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح گھڑنے بنانے لگے ۱∞؎تو انہیں چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس تصویر سازی میں اللہ تعالیٰ سے تشبیہ یا اس سے مقابلہ کی بو ہے لہذا اس سے بچے یہ حکم اطاعت ہے ہم حکم کے بندے ہیں بے جان کی تصویریں بنانا درست ہے جاندار کی صورتیں بنانا حرام ہم کو بسرو چشم قبول ہے۔
۲
؎خیال رہے کہ پرستش کے لیے بت بنانا یا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ کے لیے تصویریں بنانا کفر ہے،اگر یہ دونوں خیال نہ ہوں تو جاندار کی تصویریں بنانا حرام ہے کفر نہیں۔پرستش کے چاند سورج کے فوٹو،پیپل کے درخت کا مجسمہ بنانا بھی حرام ہے کہ یہ بت سازی ہے۔خیال رہے کہ غیر جاندار چیزوں میں بندے کے کسب کو دخل ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ باغ میرا لگایا ہوا ہے،یہ کھیت میرا اگایا ہوا ہے مگر جاندار چیز میں کسی کے کسب کو دخل نہیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چڑیا میری بنائی ہوئی ہے اس لیے جاندار کی تصویر سازی جرم ہے غیر جاندار کی نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4496