Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4490

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصبحَ يَوْمًا وَاجِمًا وَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللّٰهِ مَا أَخْلَفَنِي» . ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهٖ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَهٗ فَأَمَرَ بِهٖ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بيدِهٖ مَاءً، فَنَضَحَ مَكَانَهٗ فَلَمَّا أَمْسٰى لَقِيَهٗ جِبْرِيلُ فَقَالَ: «لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ» . قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتّٰى إِنَّهٗ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس عن ميمونة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أصبح يوما واجما وقال: «إن جبريل كان وعدني أن يلقاني الليلة فلم يلقني أم والله ما أخلفني» . ثم وقع في نفسه جرو كلب تحت فسطاط له فأمر به فأخرج ثم أخذ بيده ماء، فنضح مكانه فلما أمسى لقيه جبريل فقال: «لقد كنت وعدتني أن تلقاني البارحة» . قال: أجل ولكنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة فأصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ فأمر بقتل الكلاب حتى إنه يأمر بقتل الكلب الحائط الصغير ويترك كلب الحائط الكبير. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ جناب میمونہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن غمگین سویرا کیا ۱∞؎اور فرمایاکہ جبریل نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا مگر مجھے ملے نہیں واللہ انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۲؎پھر آپ کے خیال میں ایک کتے کا بچہ آیا جو آپ کے تخت کے نیچے تھا ۳؎حکم دیا وہ نکال دیا گیا پھر اپنے ہاتھ شریف میں پانی لیا اسے اس کی جگہ چھڑک دیا۴؎جب شام ہوئی تو حضرت جبریل آپ کو ملے تو فرمایا کہ تم نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا تھا وہ بولے ہاں لیکن ہم اس گھر میں نہیں جاتے ۵؎جہاں کتا ہو نہ وہاں جہاں تصویر ہو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح اٹھ کر کتوں کے قتل کا حکم دے دیا حتی کہ حضور چھوٹے باغ کے کتے کے قتل کا حکم دیتے تھے بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیتے تھے ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آپ صبح کے وقت بہت غمگین اٹھے۔واجمبنا ہےوجمسے بمعنی خاموشی اور غم،غصہ۔واجموہ جو غم کی وجہ سے خاموش ہو۔
۲
؎یعنی حضرت جبریل صادق الوعد ہیں ناممکن ہے کہ وہ وعدہ خلافی کریں۔
۳
؎فسطاطف کے پیش سے خیمہ کو کہتے ہیں یہاں مراد تخت ہے۔(مرقات)کیونکہ خیمہ سفر میں ہوتا ہے نہ کہ گھر میں۔
۴
؎کتے کی جگہ پر پانی چھڑکنا تقویٰ احتیاط کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ کتے کا جسم ناپاک نہیں اس کے منہ کا لعاب ناپاک ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر دل میں تکدر ہوجاوے تو اس کی وجہ معلوم کرکے بدلہ کردے اس میں غوروفکرکرنا بھی عبادت ہے، رب تعالیٰ فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا"ہمارے متقی بندے وہ ہیں کہ جب انہیں شیطان چھوبھی جاوے تو وہ لوگ سوچ لیتے ہیں۔
۵
؎یعنی ہم تو حسب وعدہ حاضر ہونے کو تیارتھے مگر آپ کے گھر میں رکاوٹ تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر اپنے گھر میں کتا نہ بھی پالا گیا ہو دوسری جگہ سے ہی آکر گھر میں بیٹھ جاوے تب بھی ملائکہ کی تشریف آوری سے رکاوٹ ہے اس لیے باہر کا کتا بھی نہ آنے دیا جاوے۔
۶
؎چونکہ بڑے باغوں کی حفاظت بغیر کتے کے مشکل ہے اور چھوٹے باغ کی حفاظت صرف مالک کرلیتا ہے اس لیے یہ فرق رکھا گیا،یہ ہی فرق اس زمانہ میں جانوروں کے چھوٹے بڑے ریوڑوں میں فرق رکھا گیا ہوگا کہ بڑے ریوڑوں کی حفاظت کے کتے باقی رکھے گئے ہوں گے مگر اب یہ حدیث منسوخ ہوچکی اب شکار اور گھر بار اور جانوروں کی حفاظت کے لیے کتے پالناجائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4490