Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4507

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهٗ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هٰذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللّٰهَ مُعَذِّبُهٗ حَتّٰى يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا» . فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهٗ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهٰذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن سعيد بن أبي الحسن قال: كنت عند ابن عباس إذ جاءه رجل فقال: يا ابن عباس إني رجل إنما معيشتي من صنعة يدي وإني أصنع هذه التصاوير فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعته يقول: «من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيه الروح وليس بنافخ فيها أبدا» . فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه فقال: ويحك إن أبيت إلا أن تصنع فعليك بهذا الشجر وكل شيء ليس فيه روح. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن حسن سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا بولا اے ابن عباس میں ایسا شخص ہوں کہ میری روزی میری ہاتھ کی کاریگری میں ہے اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں ۲؎تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں تم کو نہیں خبر دیتا مگر وہ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی تصویریں بنائے تو اللہ اسے عذاب دے گا۳؎حتی کہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں کبھی نہ پھونک سکے گا تو وہ شخص بہت سخت ہانپا۴؎اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا ۵؎تو آپ نے فرمایا تجھے خرابی ہو اگر اس کے بنانے سے تو باز نہ آئے تو اس درخت کو اور ہر اس چیز کو اختیار کر جس میں جان نہیں ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ خواجہ حسن بصری کے بھائی ہیں،حضرت زید ابن ثابت کے آزاد کردہ غلام ہیں،آپ کے والد کا نام یسار ہے،کنیت ابوالحسن،یہ ہی خواجہ حسن بصری کے والد ہیں،سعید تابعی ہیں،بصری ہیں،ثقہ ہیں،حضرت ابن عباس ابوہریرہ وغیرہم سے ملاقات ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔آپ سے قتادہ،عوف وغیرہم نے احادیث روایت کیں۔
۲
؎یعنی جاندار کی تصویریں بنانا میرا پیشہ ہے اس سے میرا گزارہ ہے مجھے اور کوئی کام آتا نہیں۔
۳
؎یہاں عذاب سے مراد تمہید عذاب ہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے۔اولًا اس سے روح پھونکنے کو فرمائے گاجب وہ نہ پھونک سکے گا تو عذاب دے گا،اگر حلال سمجھ کر تصویرسازی کرتا تھا تو دائمی عذاب ورنہ بہت دراز مدت تک عذاب۔
۴
؎رباکے معنی ہیں بلندی اور زیادتی اس لیے بلند زمین کوربوہکہتے ہیں اور سود کوربوکہا جاتا ہے۔ اب اصطلاح میں گھوڑے کی سانس پھول جانے کوربوہکہنے لگے جو زیادہ دوڑنے سے پھول جاتی ہے کہ اس میں سانس کی زیادتی ہوجاتی ہے جسے فارسی میں تلواسہ کہتے ہیں،اردو میں سانس چڑھ جانا لہذا اس کا ترجمہ ہانپنا نہایت موزوں ہے وہ خوفِ خدا سے ہانپنے لگا جو اسے یہ حدیث سن کر پیدا ہوا۔
۵
؎یعنی خوفِ خدا سے اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا غصہ میں چہرہ سرخ ہوجاتا ہے اور خو ف میں پیلا وہ متفکر ہوگیا کہ اب میں گزارہ کیسے کروں مجھے صرف یہ ہی ہنر آتا ہے اور یہ حرام ہے یہ فکر بھی علامت ایمان ہے۔
۶
؎یعنی درخت،پہاڑ،مکانات اور دوسری سبزیاں اور تمام بے جان چیزوں کی تصویریں بنایا کر اس سے تیرا گزارہ بھی ہوگا اور تو گناہ سے بھی بچا رہے گا۔خیال رہے کہ یہاں باز نہ آنے سے مراد سرکشی کرنا نہیں بلکہ مجبوری مراد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4507