Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4498

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول:«كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهٗ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَيُعَذِّبُهٗ فِي جَهَنَّمَ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّفَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَوَمَا لَا رُوحَ فِيهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:«كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم» . قال ابن عباس: فإن كنت لا بدفاعلا فاصنع الشجروما لا روح فيه(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر تصویر ساز(فوٹو گرافر)آگ میں ہوگا ہر تصویر کے عوض جو وہ بنائے ایک ذات بنائی جائے گی جو اسے دوزخ میں عذاب دے گی ۱∞؎ابن عباس نے فرمایا کہ اگر تم ضرور یہ ہی کرو تو درخت اور وہ چیزیں بناؤ جن میں جان نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر میں جان ڈال دی جاوے گی اور وہ سب مل کر اسے عذاب دیں گی یا ہر تصویر کی عوض ایک فرشتہ اس پر مسلط ہوگا جو اسے عذاب دے گا لہذا نفس سے مراد یا روح ہے یا ذات دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
۲
؎اس استثناء سے معلوم ہوا کہ ہر غیر جاندار کی تصویر بنانا جائز ہے،بعض علماء نے فرمایا کہ پھل دار درختوں کی تصویر بنانا مکروہ ہے مگر حق یہ ہی ہے کہ مکروہ بھی نہیں،ہاں لہوولعب کی نیت سے بنانا اس لیے مکروہ ہوگا کہ کھیل کود مکروہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4498