Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4500

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهٗ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من لعب بالنردشير فكأنما صبغ يده في لحم خنزير ودمه . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نردشیر کھیل کھیلے ۱∞؎تو گویا اس نے اپنے ہاتھ سؤر کے گوشت اور اس کے خون میں رنگ لیے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎فارس کے بادشاہوں میں ایک بادشاہ آردشیر ابن تابک گزرا ہے اس نے یہ جوا ایجاد کیا۔نردبمعنی ہار جیت کی بازی اردشیر آردشیر سے لیا گیا اس لیے اس کھیل کا نام نردشیر رکھا گیا یعنی اردشیر کا جو اس کی ایجادکردہ بازی۔مرقات نے فرمایا کہ اس کا موجد شابور ابن آرد شیربن تابک ہے۔
۲
؎سؤر کے گوشت و خون میں ہاتھ ساننا اسے نجس بھی کرتا ہے اور گھنونا عمل بھی ہے اس لیے اس سے تشبیہ دی گئی۔خیال رہے کہ نردشیر کی حرمت پر امت کا اجتماع ہے،شطرنج احناف کے ہاں ممنوع ہے،شوافع کے ہاں جائز ہے بشرطیکہ اس میں مالی ہار جیت نہ ہو،نماز یا جماعت نماز نہ جائے،کھیلنے والے گالی گلوچ نہ کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4500