Main Icon

باب:نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3087

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ: "الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ: فِي الْمَرْأَةِ والْمَسْكَنِ وَالدَّابَّةِ".

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "الشؤم في المرأة والدار والفرس". متفق عليه.
وفي رواية: "الشؤم في ثلاثة: في المرأة والمسكن والدابة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نحوست عورت میں اور گھر میں اور گھوڑے میں ہے۔(مسلم،بخاری) اور ایک روایت میں ہے کہ نحوست تین چیزوں میں ہے عورت میں گھر میں اور گھوڑے میں ہے ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎شومبنا ہےشامسے یمن کا مقابل،یمن کے معنی ہیں برکت،لہذا شوم کے معنی ہیں نحوست،اس حدیث کے بہت معنی کیئے گئے ایک یہ کہ اگر کسی چیز سے نحوست ہوتی تو ان تین میں ہوتی،دوسرے یہ کہ عورت کی نحوست یہ ہے کہ اولاد نہ جنے اور خاوند کی نافرمان ہو،مکان کی نحوست یہ ہے کہ تنگ ہو وہاں اذان کی آواز نہ آئے اور اس کے پڑوسی خراب ہوں،گھوڑے کی نحوست یہ ہے کہ مالک کو سواری نہ دے،سرکش ہو۔بہرحال یہاں شوم سے مراد بدفال نہیں کہ اس کی وجہ سے رزق گھٹ جائے یا آدمی مرجائے کہ اسلام میں بدفالی ممنوع ہے۔لہذا یہ حدیثلاطیرۃکی حدیث کے خلاف نہیں۔ خیال رہے کہ بعض بندے اور بعض چیزیں مبارک تو ہوتی ہیں کہ ان سے گھر میں مال میں عمر میں زیادتیاں ہوجاتی ہیں جیسے عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں "وَجَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا"مگر کوئی چیز اس کے مقابل معنی میں منحوس نہیں،ہاں کافر، کفر، زمانۂ عذاب منحوس ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"فِیۡ یَوْمِ نَحْسٍ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3087