Main Icon

باب:نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3091

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ؛ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن معقل بن يسار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "تزوجوا الودود الولود؛ فإني مكاثر بكم الأمم". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ محبت کرنے والی بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو ۱؎کیونکہ میں تمہاری وجہ سے امتوں پر فخر کروں گا ۲؎( ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ زوجین کی محبت سے گھر کی آبادی ہے اور بچوں کی پیدائش سے مقصود نکاح کا حصول ہے،زوجین کی عداوت گھر تباہ کردیتی ہے،خیال رہے کہ بیوہ عورت کے یہ دونوں وصف اس کی گزشتہ زندگی سے معلوم ہوں گے اور کنواری کے یہ اوصاف اس کی خاندانی عورتوں سے ظاہر ہوں گے کیونکہ اکثر لڑکیاں اپنی خاندانی عورتوں سے پہچانی جاتی ہیں( اشعہ )
۲
؎یعنی کل قیامت میں مجھے اس چیز سے بہت خوشی ہوگی کہ میری امت تمام امتوں سے زیادہ ہو اوران شاءﷲایسا ہی ہوگا،اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے اسی صفیں امت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ہوں گی اور چالیس صفیں سارے نبیوں کے امتی،بلکہ دنیا میں بھی کثرت تعداد ترقی قوم کا ذریعہ ہے آج کثرت رائے سے سلطنت وزارت وغیرہ بنتی ہیں۔ مرقات نے اس حدیث کا یہ مطلب بھی بتایا کہ محبت والی بچے جننے والی عورتوں کو نکاح میں رکھو کہ اگر ایسی عورت میں اور کوئی دوسری شکایت بھی ہوں تو اس کی پرواہ نہ کرو محبت و اولادکی بڑی نعمت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3091