Main Icon

باب:نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3089

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللّٰهِ عَوْنُهُمْ: الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ثلاثة حق على الله عونهم: المكاتب الذي يريد الأداء، والناكح الذي يريد العفاف، والمجاهد في سبيل الله". رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تین شخصوں کی مدد فرمانا اللہ کے ذمہ کرم پر لازم ہے ۱؎وہ مکاتب غلام جو ادا کا ارادہ رکھتا ہو ۲؎وہ نکاح کرنے والا جو پاکدامنی کا ارادہ کرے ۳؎اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا غازی ۴؎( ترمذی، نسائی،ابن ماجہ )

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ رب تعالٰی ان تین شخصوں کی غیب سے مدد کرتا ہے اس کا وعدہ ہے اور جو کوئی ان تینوں کی مدد کرے رب تعالٰی ان سے بہت ہی راضی ہوتا ہے کہ ان کی مدد سنت الہیہ ہے۔
۲
؎مکاتب وہ غلام ہے جس سے مولا نے کہہ دیا ہو کہ تو اتنی رقم مجھے دے دے تو تو آزاد ہے،ایسے غلام کی مدد کرنا اور اس کے آزاد کرانے کی کوشش کرنا بہت ثواب ہے ایسے ہی مقروض کو قرض سے نجات دلانا،مظلوم قیدی کو قید سے چھوڑانا بہت ہی ثواب ہے۔
۳
؎نکاح خود سنت ہے اور جب کہ اس میں بہ نیت خیر بھی شامل ہوجائے تو نورٌ علی نور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح میں جہیز ملنے،شہوت پوری کرنے کسی اونچے آدمی سے قرابت قائم ہونے کی نیت نہ کرے محض اپنے کو گناہوں سے بچانے کی نیت کرے ایسےناکحکی مالی بدنی مدد کرنا ثواب ہے مگر مالی مدد ضروریات نکاح پوری کرنے کے لیے ہو نہ کہ حرام رسوم ادا کرنے کے لیے۔
۴
؎لہذا غازی فی سبیل اللہ کو کھانا،ہتھیار سواری وغیرہ مہیا کردینا بہت ہی افضل ہے کہ اس کی امداد درحقیقت رب تعالٰی کے دین کی مدد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3089