Main Icon

باب:نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3084

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإبِلَ صَالِحُ نسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "خير نساء ركبن الإبل صالح نساء قريش، أحناه على ولد في صغره، وأرعاه على زوج في ذات يده". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سے اچھی عورتیں زنان قریش ہیں ۱؎اولاد پر بچپن میں بہت مہربان اور خاوند کے مقبوضہ مال کی بہترین محافظ ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی عرب کی عورتوں میں قریش خاندان کی عورتیں بہت اعلیٰ ہیں،چونکہ اہل عرب کی عام سواری اونٹ ہے اس لیے یوں ارشاد فرمایا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں،حضرت مریم تو قریشی بیویوں سے افضل تھیں۔(مرقات) خیال رہے کہ عورت کو گھوڑے کی سواری ممنوع ہے"لعن اﷲ الفروج علی السروج
۲
؎یہ قریشی عورتوں کی بہتری کی وجہ کا بیان ہے اس جملہ کی بہت شرحیں ہیں آسان ترین شرح یہ ہے کہ قرشی عورتیں بچوں پر مہربان ہوتی ہیں ان کی پرورش بہت عمدہ طریقہ سے کرتی ہیں اور خاوند کی خیر خواہ کہ اس کی جان تو کیا اس کے مال کی بھی حفاظت کرتی ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ بچے سے مراد یتیم یا بے ماں کے بچے ہیں،اور خاوند کی چیز سے مراد ان کی اپنی ذات ہے یعنی وہ بیویاں خاوند کے لاوارث بچوں کی بھی خوب پرورش کرتی ہیں اوراپنی پارسائی کی حفاظت کرتی ہیں یہ سمجھ کر کہ میں اپنے خاوند کی ہوں۔احناءحنوسے بنا بمعنی شفقت اورہٗضمیر خلق کی طرف لوٹتی ہے یعنی ساری مخلوق میں قرشی عورتیں بچوں پر زیادہ مہربان ہیں یا اس کا مرجع صنف عورت ہے اور صنف مذکر،لہذا ضمیر مذکر ارشاد ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3084