- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3088
باب:نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3088
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا كنَّا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ: "تَزَوَّجْتَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: "أَبِكْرٌ أم ثَيِّبٌ؟ " قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ قَالَ: "فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ: "أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لكَي تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيْبَةُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن جابر: قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة، فلما قفلنا كنا قريبا من المدينة قلت: يا رسول الله! إني حديث عهد بعرس قال: "تزوجت؟ " قلت: نعم قال: "أبكر أم ثيب؟ " قلت: بل ثيب قال: "فهلا بكرا تلاعبها وتلاعبك فلما قدمنا ذهبنا لندخل فقال: "أمهلوا حتى ندخل ليلا أي عشاء لكي تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد میں تھے تو جب ہم لوٹے مدینہ منورہ سے قریب ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسولﷲمیں نیا شادی شدہ ہوں ۱؎فرمایا کیا تم نے نکاح کرلیا میں نے عرض کیا ہاں فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے میں نے کہا بلکہ بیوہ سے،فرمایا کنواری سے کیوں نہ کیا کہ اس سے پوری الفت کرتے وہ تم سے پوری محبت کرتی ۲؎پھر جب ہم پہنچ گئے اور گھر جانے لگے تو فرمایا ٹھہروتا کہ ہم رات میں یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں ۳؎تاکہ پراگندا بال کنگھی سے سلجھائے جائیں اور پوشیدہ جگہ صاف کرلی جائے لوہے سے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎کسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جابر کے نکاح میں شرکت نہ کی ہوگی اور انہوں نے ابھی تک حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کی خبر نہ کی تھی اس کا موقعہ نہ ملا تھا ورنہ علی العموم صحابہ کرام ایسے موقعوں میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شرکت ضروری سمجھتے تھے۔
۲؎یعنی بہتر تھا کہ تم کسی کنواری عورت سے نکاح کرتے کیونکہ بیوہ عورت کے دل میں پہلے خاوند اور پہلی سسرال کا خیال رہتا ہے ذرا سی تکلیف میں ان لوگوں کو یاد کرتی ہے اس لیے خاوند سے الفت جیسی کنواری عورت کو ہوتی ہے ویسے بیوہ کو نہیں ہوتی۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا خود آپ بیوگان سے نکاح فرمانا دوسری مصلحتوں کی بنا پر تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سوائے عائشہ صدیقہ کے کسی کنواری بیوی سے نکاح نہ کیا۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ کنواری لڑکی سے نکاح کرنا مستحب ہے یہ ہی فقہاء فرماتے ہیں، دوسرے یہ کہ اپنی عورت سے ملاعبت وخوش طبعی بہتر ہے کہ اس میں صدہا حکمتیں ہیں ۔
۳؎یعنی اپنے گھر،اپنے مدینہ پہنچ جانے کی اطلاع تو بھیج دو،مگر رات آنے سے پہلے خود نہ جاؤ،جس حدیث میں فرمایا کہ رات میں سفر سے واپس گھر نہ پہنچو،وہاں بغیر اطلاع پہنچنا مراد ہے سنت یہ ہے کہ مسافر پہلے اپنے گھر اپنی آمد کی اطلاع بھیجے پھر وہاں پہنچے۔
۴؎یعنی اس تاخیر میں مصلحت یہ ہے کہ تمہاری بیوی تمہاری آمد کی اطلاع پا کر نہا دھو لے گی بالوں میں کنگھی،اندرونی صفائی کرلے گی جس سے تم اسے اچھی حالت میں پاؤ گے اور اس سے آپس کی محبت بڑھے گی،کبھی اچانک گھر پہنچ جانے سے بیوی کو ایسی حالت میں دیکھنا ہوتا ہے کہ طبیعت میں گھن و نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔خیال رہے کہ عمومًا عورتیں استرے سے اندرونی صفائی نہیں کرتیں بلکہ چونا وغیرہ سے کرتی ہیں اسی لیے محدثین نےتستحدسے مراد لی ہے چونا وغیرہ سے صفائی کرلینا۔ اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو اندرونی صفائی کے لیے استرہ کا استعمال کرنا جرم نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3088