Main Icon

باب :صدقہ فطر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1816

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مَنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مَنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: كنا نخرج زكاة الفطر صاعا من طعام، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من أقط، أو صاعا من زبيب. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم صدقہ فطر ایک صاع غلہ ۱؎ یا ایک صاع جو یا ایک صاع چھوہارے یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کشمش نکالتے تھے ۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎ حق یہ ہے کہ یہاں طعام سے مراد گندم کے علاوہ دوسرا غلہ ہے جوار،باجرہ،مکئی وغیرہ کیونکہ گندم کا آدھا صاع فطرہ ہوتا ہے نہ کہ پورا صاع اور اگر گندم مراد ہو تو آدھا صاع فطرہ ہوگا اور آدھا صدقہ نفلی لہذا یہ حدیث نصف صاع گندم کی احادیث کے خلاف نہیں۔شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ اس زمانہ میں حجاز میں جوار کا زیادہ استعمال تھا۔
۲؎ یہ اَوْ اختیار دینے کے لیے ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ دینے والے کوا ختیار ہے کہ فطرہ ان میں سے کسی چیز سے دے لیکن اگر پیسے یا کپڑا یا صابن وغیرہ فطرہ میں دے تو سوا دو سیر گندم کی قیمت کا اعتبار کرے،اس قیمت کی یہ چیزیں دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1816