Main Icon

باب :صدقہ فطر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1818

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَ الصِّيَامِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكينِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعنه قال: فرض رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- زكاة الفطر طهر الصيام من اللغو والرفث، وطعمة للمساكين. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطرہ لازم فرمایا روزوں کو بے ہودگی اور فحش سے پاک کرنے اور مسکینوں کو کھانا دینے کے لیے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ یعنی فطرہ واجب کرنے میں دو حکمتیں ہیں:ایک تو روزہ دار کے روزوں کی کوتاہیوں کی معافی اکثر روزے میں غصہ بڑھ جاتا ہے تو بلاوجہ لڑ پڑتا ہے،کبھی جھوٹ،غیبت وغیرہ بھی ہوجاتے ہیں،رب تعالٰی اس فطرے کے برکت سے وہ کوتاہیاں معاف کردے گا کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔دوسرے مساکین کی روزی کا انتظام۔بچوں پر اگرچہ روزے فرض نہیں مگر دوسری حکمت وہاں بھی موجود ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر بچوں پر فطرہ کیوں ہے وہ تو روزہ رکھتے نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1818