Main Icon

باب :صدقہ فطر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1820

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، أَوْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحِ عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزكِّيهِ اللَّهُ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن ثعلبة، أو ثعلبة بن عبد الله بن أبي صعير عن أبيه قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "صاع من بر أو قمح عن كل اثنين، صغير أو كبير، حر أو عبد، ذكر أو أنثى، أما غنيكم فيزكيه الله، وأما فقيركم فيرد عليه أكثر مما أعطاه". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن ثعلبہ سے یا ثعلبہ ابن عبداللہ ابن ابی صُعیر سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک صاع گندم دوشخصوں کی طرف سے ہے چھوٹے یا بڑے آزاد یا غلام مرد عورت لیکن ۲؎ تم میں کے مالدار اللہ اسے تو پاک فرمادے گا اور لیکن تمہارا فقیر اللہ اسے دئیے سے زیادہ دے گا۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ آپ عبد اللہ ابن ثعلبہ ابن ابی صعیر ہیں،آپ تابعی ہیں مگر آپ کے والد ثعلبہ صحابی ہیں جن سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے، صعیر کی وفات ۸۷ھ یا ۸۹ھ میں ہوئی،قریبًا نوے سال عمر پائی اور عبد اللہ ابن ثعلبہ ہجرت سے چار سال پہلے پیدا ہوئے اور ۸۹ھ میں فوت ہوئے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر کچھ سماعت ثابت نہیں۔(مرقات)
۲؎ یعنی چھوٹے بڑے آزاد غلام سب کا فطرہ یکساں ہے آدھا صاع گندم۔
۳؎ اس حدیث سے بظاہرمعلوم ہوتا ہے کہ فقیر پربھی فطرہ واجب ہے مگر یہ حدیث قابل حجت نہیں کیونکہ اس کے اسناد میں نعمان ابن راشد ہے جو سخت ضعیف ہے،امام بخاری نے فرمایا کہ یہ وہمی ہے،امام احمد نے فرمایا یہ حدیث صحیح نہیں پھر ان راوی کے نام میں بہت گفتگو ہے،عبدالرزا ق نے یہ حدیث بسند صحیح ابن جریج عن ابن شہاب عن عبد الله ابن ثعلبہ روایت کی تو اس میں فقیروغنی کا ذکر نہیں،صرف یہ ہے کہ ایک صاع گندم دو کی طرف سے ادا کرو۔اس کی پوری اور نفیس تحقیق یہاں مرقات میں دیکھو،نیز اگر ہر فقیر و غنی پر صدقہ فطر دینا واجب ہوجائے تو پھر فطرہ لینے والا کون ہوگا کیونکہ یہ تو اصول اسلام کے خلاف ہے کہ فقیر فطرہ دےبھی اور دوسروں کا فطرہ لے بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1820