Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4242

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نُبَيْشَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا تَقُولُ لَهُ القَصْعَةُ: أَعْتَقَكَ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ كَمَا أَعْتَقْتَنِي مِنَ الشَّيْطَانِ ". رَوَاهُ رَزِيْنٌ

وعن نبيشة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من أكل في قصعة ثم لحسها تقول له القصعة: أعتقك الله من النار كما أعتقتني من الشيطان ". رواه رزين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نبیشہ سے فرماتے ہیں ۱؎فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو پیالہ میں کھائے پھر اسے چاٹ لے تو پیالہ اس سے کہتا ہے کہ تجھے الله آگ سے آزاد کرے جیسے تو نے مجھے شیطان سے آزادکرایا ۲؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یہ وہ ہی نبیشہ ہیں جن کا ذکر ابھی کچھ پہلے ہوا جنہیں نبیشہ الخیر کہتے ہیں۔
۲
؎ظاہر یہ ہوا کہ پیالہ اپنی زبان میں یہ الفاظ رکھتا ہے صرف زبان حال مراد نہیں۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ سنا ہوا برتن بغیر صاف کیے ہوئے پڑا رہے تو اس سے شیطان چاٹتا ہے،حدیث ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔بعض نے فرمایا کہ کہنے سے مراد ہے زبان حال سے کہنا اور شیطان کے چاٹنے سے مراد کتے بلّوں کا چاٹنا کہ سنے ہوئے برتن کو کتے بلے چاٹتے ہیں اس سے برتن کی توہین ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4242