Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4200

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى لَيَرْضٰى عَنِ العَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الأَكْلَةَ فَيَحْمَدُهٗ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدُهٗ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَيْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا فِي «بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى ليرضى عن العبد أن يأكل الأكلة فيحمده عليها أو يشرب الشربة فيحمده عليها» . رواه مسلم وسنذكر حديثي عائشة وأبي هريرة : ما شبع آل محمد وخرج النبي صلى الله عليه وسلم من الدنيا في «باب فضل الفقراء» إن شاء الله تعالى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی بندے سے خوش ہوتا ہے کہ وہ لقمہ کھائے تو اس پر الله کا شکر کرے ۱؎یا گھونٹ پیئے تو اس پر الله کا شکر کرے ۲؎(مسلم)اور ہم حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ کی دونوں حدیثیں ایکماشبعالخ دوسری،خرج النبیالخ صلی الله علیہ وسلم ان شاء اللهباب فضل فقراءمیں بیان کریں گے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ اگرکسی وقت تھوڑا سا کھانا بھی کھائے ایک آدھ لقمہ تب بھی خدا کی حمد کرے۔دوسرے یہ کہ کھاتے وقت ہر لقمہ پر الله کی حمد کرے ہم نے بعض بزرگوں کو کھانے کے ہر لقمے اور پانی کے ہر گھونٹ پر حمد کرتے دیکھا ہے۔
۲
؎اس جملہ کے دو ہی مطلب ہیں جو ابھی ہم نے لقمہ کے متعلق عرض کیے۔
۳
؎یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں یہاں تھیں ہم نے مناسبت کا لحاظ کرکے انہیںباب فضل فقراءمیں بیان کیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4200