Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4209

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج من الخلاء فقدم إليه طعام فقالوا: ألا نأتيك بوضوء؟ قال: «إنما أمرت بالوضوء إذا قمت إلى الصلاة» . رواه الترمذي وأبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پاخانہ سے تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم وضو کا پانی حاضر نہ کریں ۱؎فرمایا کہ وضو کا حکم دیا گیا صرف جب کہ نما ز کی طرف کھڑا ہوں ۲؎(ترمذی،ابواؤد)

شرح حدیث

۱∞؎وہ حضرات سمجھے تھے کہ کھانے سے پہلے شرعی وضو کرنا واجب ہے اس لیے وضو کے لیے پانی لانے کی اجازت مانگی۔
۲
؎یہ حصر غالب حالت کے لحاظ سے ہے ورنہ سجدۂ تلاوت،قرآن پاک چھونے،طواف کعبہ کرنے کے لیے بھی وضو کرنے کا حکم ہے،سجدۂ تلاوت کے لیے وضو شرط ہے۔مقصد یہ ہے کہ ہمارے اس فرمان میں کہ کھانا وضو کرکے کھاؤ وضو سے مراد عرفی وضو ہے اور حکم استحبابی ہے،شرعی وضو کھانے کے لیے نہ فرض ہے نہ سنت،اس میں امت پر آسانی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4209