Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4204

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهٖ قَالَ:الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي سعيد الخدري قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من طعامه قال:الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين.رواه الترمذي وأبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تھے ۱؎تو فرماتے تھے شکر ہے اس الله کا جس نے ہم کو کھلایاہم کو پلایا مسلمان بنایا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎خواہ اکیلے یا جماعت کے ساتھ پھر خواہ اپنے گھر والوں کے ساتھ خواہ مہمانوں کے ساتھ پھر خواہ اپنے گھر یا کسی اور کے گھر مہمان بن کر ہر کھانے کے بعد یہ دعا پڑھتے۔
۲
؎کھانے پانی سے جسم کی پرورش ہے، اسلام وایمان سے جان و دل کی پرورش،ان دونوں نعمتوں پر شکر کرتے تھے کیونکہ شکر سے نعمت بڑھتی ہے،قرآن مجید کا وعدہ ہے، فقط پانی پی کر یہ دعا نہ پڑھتے تھے وہاں صرفالحمد ﷲکہتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر نئی نعمت پا کر نیا شکر کرے چونکہ کھانا اصل مقصود ہے اور پانی اس کے تابع اس لیے نعمت ظاہری کا ذکر پہلے فرماتے تھے باطنی کا بعد میں،نیز دعا کو اسلام کے ذکر پر ختم فرمانا اس لیے تھا کہ خاتمہ ایمان پر میسر ہو۔(مرقات)
۳
؎یہ حدیث احمد اور نسائی نے بھی روایت کی،ابن سنی نے اپنیکتاب الیوم و اللیلۃمیں نقل فرمائی۔ غرضیکہ بہت محدثین نے نقل فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4204