Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4229

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِيْ خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهٗ فَجَاءَ بِهٖ فَقَالَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هٰذَا؟» قَالَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ قَالَ: «ارْفَعْهُ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ أَبُوْ دَاوُدَ: هٰذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «وددت أن عندي خبزة بيضاء من برة ملبقة بسمن ولبن» فقام رجل من القوم فاتخذه فجاء به فقال: «في أي شيء كان هذا؟» قال في عكة ضب قال: «ارفعه» . رواه أبوداود وابن ماجه وقال أبو داود: هذا حديث منكر.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس شربتی گندم کی سفید روٹی ہوتی جو گھی اور دودھ سے چوپڑی ہوتی ۱؎تو قوم میں سے ایک صاحب اٹھے انہوں نے یہ تیار کی پھر لائے تو فرمایا یہ گھی کس چیز میں تھا عرض کیا گوہ کے ڈبہ میں ۲؎فرمایا اسے اٹھالو۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)ابوداؤد نے کہا یہ حدیث منکر ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہمارا دل چاہتا ہے کہ اعلیٰ درجہ کی گندم کی روٹی ہو گھی میں چُپڑ کر دودھ میں بھگو دی گئی ہو وہ ہم کھائیں۔معلوم ہوا کہ الله کی اعلیٰ نعمتیں کھانا یا کھانے کی خواہش کرنا تقویٰ کے خلاف نہیں نہ معلوم کیا وقت تھا اور کیا رنگ تھا کہ اس محبوب صلی الله علیہ وسلم نے یہ خواہش فرمائی۔بعض مسلمان اس حدیث کو دیکھ کر یہ ہی کھانا تیار کرکے حضور صلی الله علیہ وسلم کی فاتحہ کرکے مساکین کو کھلاتے ہیں،عشق کے رنگ نیارے۔
۲
؎یعنی جو گھی ان روٹیوں میں چپڑا گیا ہے وہ گوہ کی کھال کے مشکیزہ میں تھا غالبًا حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے اس گھی میں ہلکی سی بو محسوس فرمائی اس لیے پوچھا۔
۳
؎یعنی تم کھالو یا کسی اور کو کھلاؤ ہم ملاحظہ نہ فرمائیں گے۔معلوم ہوا کہ یہ حرام نہ تھا حضور انور کو ناپسند تھا قدرے مہک کی وجہ سے۔
۴
؎یعنی ضعیف اور نامقبول ہے۔اشعۃ اللمعات اور مرقات نے فرمایا کہ ابوداؤد نے اس حدیث کو اس لیے منکر فرمادیا کہ یہ حدیث عادت کریمہ کے خلاف ہے۔حضور اعلیٰ کھانوں کی آرزو کیسے کرسکتے ہیں آپ تو تابعین و متوکلین کے سردار ہیں ہم نے ابھی اس کی وجہ بیان کردی کہ یہ عمل شریف یہاں جواز کے لیے ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے مرغ کھایا ہے،بٹیریں ملاحظہ فرمائی ہیں،جب اعلیٰ نعمتوں کا کھانا تقویٰ کے خلاف نہیں تو ان کی خواہش کرنا خلاف تقویٰ کیونکر ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4229