Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4194

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعْنَا مِنَ الأَسْوَدَيْنِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنها قالت: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وما شبعنا من الأسودين. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی حالانکہ ہم دو کالی چیزوں سے سیر نہ ہوئے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دو کالی چیزوں سے مراد چھوہارے اور پانی ہے کہ چھوہارے تو کالے ہوتے ہیں۔پانی کو تغلیبًا کالا فرمایا گیا جیسے چاند و سورج کو قمرین اور امام حسن اور حسین کو حسنین اور حضرت ابو بکروعمر کو عمرین کہا جاتا ہے۔یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی وفات شریف تک ہم نے کھجوریں وپانی بھی خوب سیر ہو کر نہ کھائیں۔فتح خیبر سے پہلے تو اس لیے کہ گھر میں یہ سامان زیادہ نہ ہوتا تھا اور فتح خیبر کے بعد اس لیے کہ حضور انور کو بہت سیر ہوکر کھانا پسند نہ تھا اگرچہ ہر گھر میں سال بھر کے جو اور چھوہارے موجود ہوتے تھے لہذا حدیث واضح ہے اس پرکوئی اعتراض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4194