Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4203

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ مَحْشِيٍّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَأْكُلُ فَلَمْ يُسَمِّ حَتّٰى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهٖ إِلَّا لُقْمَةٌ فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلٰى فِيهِ قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ فَضَحِكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهٗ فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللّٰهِ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنِهٖ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أمية بن محشي قال: كان رجل يأكل فلم يسم حتى لم يبق من طعامه إلا لقمة فلما رفعها إلى فيه قال: بسم الله أوله وآخره فضحك النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: «ما زال الشيطان يأكل معه فلما ذكر اسم الله استقاء ما في بطنه» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت امیہ ابن محشِی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص کھاتا تھا تو اس نے بسم الله نہ پڑھی حتی کہ نہ باقی رہا اس کے کھانے سے مگر ایک لقمہ پھر جب اسے اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو اس کے اول و آخر بسم الله ۲؎کہا حضور ہنس پڑے پھر فرمایا کہ شیطان اس کے ساتھ کھاتا رہا پھر جب اس نے الله کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا سب قے کردیا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابو عبید ہے،امیہ تصغیر سے ہے اور محشِی میم کے فتح شین کے کسرہ ی کی شد سے ہے،آپ صحابی ہیں،خزاعی اسدی ہیں،بصرہ میں قیام رہا، آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ کھانا شروع کرتے وقت پوری بسم الله پڑھے لیکن اگر بیچ میں یاد آوے تو صرف بسم الله کہے اور ساتھ ہی اولہ و آخرہ کہہ لے۔یہ اصل میںفی اولہ و آخرہتھافیکو پوشیدہ کرکے اول آخر کو فتح دے دیا گیا۔
۳
؎حضور صلی الله علیہ وسلم کی نظریں حقیقت میں چھپی مخلوق کو بھی ملاحظہ فرماتی ہیں اور حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں جیسے ہمارا معدہ مکھی والا کھانا ہضم نہیں کرسکتا ایسے شیطان کا معدہ بسم الله والا کھانا ہضم نہیں کرتا اگرچہ اس کا قے کیا ہوا کھانا ہمارے کام نہیں آتا مگر مردود تو بیمار بھی پڑ جاتا ہے اور بھوکا بھی رہ جاتا ہے اور ہمارے کھانے کی فوت شدہ برکت لوٹ آتی ہے۔غرضیکہ اس میں ہمارا فائدہ ہے اس کے دو نقصان اور ممکن ہے کہ وہ مردود آئندہ ہمارے ساتھ بغیر بسم الله والا کھانا بھی ڈر کے سبب نہ کھائے کہ شاید یہ بیچ میں بسم الله پڑھ لے اور مجھے قے کرنی پڑے۔ غالبًا یہ شخص اکیلا کھا رہا تھا اگر حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھاتا ہوتا تو بسم الله نہ بھولتا وہاں تو حاضرین بسم الله بلند آواز سے کہتے تھے اور ساتھیوں کو بسم الله کہنے کا حکم کرتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4203