Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4224

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدٍ قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهٗ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتّٰى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلٰى فُؤَادِي وَقَالَ: «إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْؤُودٌ ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهٗ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ، فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمْرَاتٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن سعد قال: مرضت مرضا أتاني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني فوضع يده بين ثديي حتى وجدت بردها على فؤادي وقال: «إنك رجل مفؤود ائت الحارث بن كلدة أخا ثقيف فإنه رجل يتطبب، فليأخذ سبع تمرات من عجوة المدينة فليجأهن بنواهن ثم ليلدك بهن» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد سے ۱؎فرماتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی صلی الله علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے ۲؎اپنا ہاتھ مرے پستانوں کے بیچ رکھا حتی کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل پر پائی ۳؎اور فرمایا کہ تم دل کے بیمار ہو حارث ابن کلدہ ثقفی کے پاس جاؤ وہ طبابت کرتے ہیں ۴؎وہ مدینہ کی عجوہ میں سے سات عجوہ کھجوریں لیں انہیں معہ گٹھلیوں کے کوٹ لیں اور پھر ان سے تم کو پلادیں ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں سعد سے مراد حضرت سعد ابن ابی وقاص ہیں جو عشرہ مبشرہ سے ہیں،یہ واقعہ فتح مکہ کے سال کا ہے،اس وقت آپ مکہ معظمہ میں تھے آپ سخت بیمار ہوگئے تھے۔(مرقات)
۲
؎حضور انور اپنی جائے قیام سے میری جائے قیام پر صرف میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔معلوم ہوا کہ اپنے خدام کی مزاج پرسی بیمار پرسی کے لیے ان کے گھرجانا سنت ہے۔
۳
؎حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک قدرتی طور پر قدرے ٹھنڈے تھےجن سے دوسرے کو نہایت خوشگوار ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی،چونکہ حضرت سعد کو دل کی بیماری تھی اس لیے حضور انور نے بیماری کی جگہ ہاتھ رکھا۔معلوم ہوا کہ مرض کی جگہ ہاتھ رکھنا عیادت کے لیے سنت ہے۔فواددل کو بھی کہتے ہیں دل کے پردے کو بھی اور سینہ کو بھی جو دل کا مقام ہے،یہاں غالبًا بمعنی سینہ ہے۔
دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کف پاچاند سا سینہ پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
مبارک ہے وہ بیماری جس میں ایسے تیماردار امت کے غم خوار چل کر مریض کے پاس آویں۔
سر بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
اب بھی بعض بزرگوں نے اپنی بیماری میں حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی جاگتے ہوئے زیارت کی ہے کہ حضور نے ان کی تیمارداری و عیادت فرمائی۔
سبحان الله!۴؎اس سے معلوم ہوا کہ کافر طبیب سے علاج کرانا جائز ہے کیونکہ حارث ابن کلدہ مکہ معظمہ میں مشہور طبیب تھا مگر کافر تھا اس کا اسلام ثابت نہیں۔(اشعۃ اللمعات)مگر حیرت یہ ہے کہ مرقات نے فرمایا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کے سال ہوا اور اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حارث ابن کلدہ شروع اسلام میں فوت ہوا کافر مرا مسلمان نہ ہوا۔اس سے معلوم ہو اکہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماہر طبیب سے علاج کرانا چاہیے جو فن طبابت میں مہارت رکھتا ہو ورنہ نیم حکیم خطرہ جان۔اور تجربہ بھی رکھتا ہو یہ کام کرتا بھی ہو۔یتطیبسے بہت مسائل حل ہوگئے۔
۵
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ احادیث شریفہ کی تجویز فرمائی ہوئی دوائیں کسی طبیب کی رائے سے استعمال کرنا چاہئیں جو ہمارے مزاج،موسم،دوا کی تاثیر،ہمارے مرض کی کیفیت سے خبردار ہو۔ دوسرے یہ کہ بعض دوائیں طبیب ہی کے ہاتھ سے استعمال کرنی چاہیے۔آج ڈاکٹر ہی ٹیکہ تجویز کرتے ہیں وہ ہی لگاتے ہیں،دیکھو حضور انور نے دوا تجویز فرمادی مگر استعمال کے لیے طبیب کے پاس بھیجا۔تیسرے یہ کہ عجوہ کھجور اور اس کی گٹھلی میں بہت فوائد ہیں۔ان سے دل کی دھڑکن،دل کی کمزوری بھی دور ہوتی ہے اور چند فوائد پہلے بیان ہوچکے کہ یہ زہر اور سحر کے لیے مفید ہے۔لیلدكبنا ہےلدٌسے جس کے معنی ہیں بیمار کے منہ میں قطرہ ٹپکانا یا اس کے تالو میں کوئی چیز لیپ دینا جس سے وہ بہ آسانی اسے نگل لے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4224