- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- کھانوں کا بیان
- حدیث نمبر 4237
باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4237
کھانوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 4159
- 4160
- 4161
- 4162
- 4163
- 4164
- 4165
- 4166
- 4167
- 4168
- 4169
- 4170
- 4171
- 4172
- 4173
- 4174
- 4175
- 4176
- 4177
- 4178
- 4179
- 4180
- 4181
- 4182
- 4183
- 4184
- 4185
- 4186
- 4187
- 4188
- 4189
- 4190
- 4191
- 4192
- 4193
- 4194
- 4195
- 4196
- 4197
- 4198
- 4199
- 4200
- 4201
- 4202
- 4203
- 4204
- 4205
- 4206
- 4207
- 4208
- 4209
- 4210
- 4211
- 4212
- 4213
- 4214
- 4215
- 4216
- 4217
- 4218
- 4219
- 4220
- 4221
- 4222
- 4223
- 4224
- 4225
- 4226
- 4227
- 4228
- 4229
- 4230
- 4231
- 4232
- 4233
- 4234
- 4235
- 4236
- 4237
- 4238
- 4239
- 4240
- 4241
- 4242
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتّٰى يَبْدَأَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ يَدَهٗ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهٗ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَأَخَذَهٗ بِيَدِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيهِ وإِنَّهٗ جَاءَ بِ هٰذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهٰذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهٖ فَأَخَذْتُ بِيَدِهٖ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ إِنَّ يَدَهٗ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا» . زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللّٰهِ وأكَلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن حذيفة قال: كنا إذا حضرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم لم نضع أيدينا حتى يبدأرسول الله صلى الله عليه وسلم فيضع يده وإنا حضرنا معه مرة طعاما فجاءت جارية كأنها تدفع فذهبت لتضع يدها في الطعام فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدها ثم جاء أعرابي كأنما يدفع فأخذه بيده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الشيطان يستحل الطعام أن لا يذكر اسم الله عليه وإنه جاء ب هذه الجارية ليستحل بها فأخذت بيدها فجاء بهذا الأعرابي ليستحل به فأخذت بيده والذي نفسي بيده إن يده في يدي مع يدها» . زاد في رواية: ثم ذكر اسم الله وأكل. رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جب حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں حاضر ہوتے تو اپنا ہاتھ نہ لگاتے حتی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پس رکھتے اپنا ہاتھ ۱؎ایک بار حضور کے ساتھ کسی کھانے پر حاضر ہوئے تو ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیلی جارہی ہے۲؎وہ اپنا ہاتھ کھانے میں لگانے لگی۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک بدوی آیا گویا دھکیلا جارہا ہے ۴؎حضور نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان اپنے لیے کھانا حلال کرتا ہے اس سے کہ کھانے پر الله کا نام نہ لیا جائے ۵؎وہ اسے لایا تاکہ اس کے ذریعہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر اس بدوی کو لایا کہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا ۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۷؎ایک روایت میں ہے کہ پھربسم الله پڑھی اور کھایا ۸؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی بزرگ کے ساتھ دسترخوان پر حاضر ہو تو ان سے پہلے کھانا شرو ع نہ کرے کہ اس میں بے ادبی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ سارے کھانے والے بالغ ہوں،ان میں ایک بزرگ باقی خدام لیکن اگر کھانے والے میں کوئی ناسمجھ بچہ بھی ہو تو وہ پہلے کھانا شرو ع کرسکتا ہے بلکہ اس کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں اور کھانا کھا چکنے پر اس کے ہاتھ پیچھے دھلائے جائیں کیونکہ بچے آہستہ آہستہ کھاتے ہیں،دیر تک کھاتے ہیں اور کھانا سامنے آنے پر زیادہ صبر نہیں کرسکتے۔ یہ تمام احکام عالمگیری وغیرہ میں مطالعہ کرو۔
۲؎جاریہ سے مراد لونڈی نہیں بلکہ چھوٹی بچی ہے جو اتنی تیز دوڑتی آرہی تھی جیسےکسی نے اسے اس طرح دھکا دیا ہو،دھکا کھا کر انسان بہت تیزی سے گرتا ہے۔
۳؎یعنی ابھی ہم نے کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اس نے پہلے ہی ہاتھ ڈالنا چاہا بغیر بسم الله پڑھے ہوئے درحقیقت اسے شیطان اسی طرح بھگائے ہوئے لارہا ہے۔
۴؎یہاں بھی یہی حال تھا کہ وہ بدوی صاحب بھی ان حضرات سے پہلے ہی بغیر بسم الله پڑھے ہوئے ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے یہاں بھی شیطان ہی کا دھوکا تھا۔
۵؎یعنی اگر جماعت میں ایک آدمی بھی بغیر بسم الله کھانے لگے تو شیطان اس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے تم سب کو بسم الله پڑھ کر کھاتے شیطان کو ساتھ کھانے کی جرأت نہ ہوتی اس لیے وہ آگے پیچھے ان دونوں کو لایا کہ یہ بغیر بسم الله کھائے اور ان کے ذریعہ شیطان بھی کھائے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ بچے جو بسم الله پڑھ سکیں ضرور بسم الله پڑھ کر کھایا کریں ورنہ شیطان کھانے میں شریک ہوگا،ہاں بالکل بےسمجھ بچہ جوصحیح بول نہ سکے اس حکم سے علیحدہ ہے۔
۶؎تاکہ یوں دونوں میں سے کوئی بغیر بسم الله ہاتھ نہ ڈال سکے اور شیطان کو موقع نہ ملے اس کی کوشش بیکار جائے۔
۷؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہےبیدھمااس تثنیہ ضمیر کا مرجع وہ لڑکی اور یہ بدوی دونوں ہیں یعنی ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ شیطان کا ہاتھ بھی میرے ہاتھ میں ہے۔اس نسخہ میںبیدھاہے جس کا مرجع لڑکی ہے چونکہ پہلے وہ ہی آئی تھی اس لیے اس کا ذکر فرمایا۔اس سے معلوم ہوا جس کے ساتھ یا جس پر شیطان ہو اس کو پکڑ لینے سے وہ شیطان بھی پکڑا جاتا ہے۔بعض عاملین کو دیکھا گیا کہ وہ اس شخص کے بال یا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں جس پر شیطان سوار ہو اس سے خود شیطان قبضہ میں آجاتا ہے،اس عمل کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے۔
۸؎ان دونوں نے بھی بسم الله پڑھ کر کھایا اور دوسرے حضرات نے بھی۔حضرات صوفیاء چشتیہ فرماتے ہیں کہ قوالی اہل کے لیے حلال ہے نا اہل کے لیے حرام،اگر مجمع میں ایک بھی نا اہل شریک ہوجائے تو سب کے لیے ممنوع کیونکہ ایک نا اہل کی شرکت سے شیطان شریک ہوجاتا ہے اور وہ کام شیطانی بن جاتا ہے،اس قول کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ اگر کھانے والوں کو جماعت میں ایک شخص بھی بغیر بسم الله شریک ہوجائے تو شیطان شریک ہوجاتا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4237