Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4237

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتّٰى يَبْدَأَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ يَدَهٗ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهٗ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَأَخَذَهٗ بِيَدِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيهِ وإِنَّهٗ جَاءَ بِ هٰذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهٰذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهٖ فَأَخَذْتُ بِيَدِهٖ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ إِنَّ يَدَهٗ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا» . زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللّٰهِ وأكَلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن حذيفة قال: كنا إذا حضرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم لم نضع أيدينا حتى يبدأرسول الله صلى الله عليه وسلم فيضع يده وإنا حضرنا معه مرة طعاما فجاءت جارية كأنها تدفع فذهبت لتضع يدها في الطعام فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدها ثم جاء أعرابي كأنما يدفع فأخذه بيده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الشيطان يستحل الطعام أن لا يذكر اسم الله عليه وإنه جاء ب هذه الجارية ليستحل بها فأخذت بيدها فجاء بهذا الأعرابي ليستحل به فأخذت بيده والذي نفسي بيده إن يده في يدي مع يدها» . زاد في رواية: ثم ذكر اسم الله وأكل. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جب حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں حاضر ہوتے تو اپنا ہاتھ نہ لگاتے حتی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پس رکھتے اپنا ہاتھ ۱؎ایک بار حضور کے ساتھ کسی کھانے پر حاضر ہوئے تو ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیلی جارہی ہے۲؎وہ اپنا ہاتھ کھانے میں لگانے لگی۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک بدوی آیا گویا دھکیلا جارہا ہے ۴؎حضور نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان اپنے لیے کھانا حلال کرتا ہے اس سے کہ کھانے پر الله کا نام نہ لیا جائے ۵؎وہ اسے لایا تاکہ اس کے ذریعہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر اس بدوی کو لایا کہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا ۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۷؎ایک روایت میں ہے کہ پھربسم الله پڑھی اور کھایا ۸؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی بزرگ کے ساتھ دسترخوان پر حاضر ہو تو ان سے پہلے کھانا شرو ع نہ کرے کہ اس میں بے ادبی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ سارے کھانے والے بالغ ہوں،ان میں ایک بزرگ باقی خدام لیکن اگر کھانے والے میں کوئی ناسمجھ بچہ بھی ہو تو وہ پہلے کھانا شرو ع کرسکتا ہے بلکہ اس کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں اور کھانا کھا چکنے پر اس کے ہاتھ پیچھے دھلائے جائیں کیونکہ بچے آہستہ آہستہ کھاتے ہیں،دیر تک کھاتے ہیں اور کھانا سامنے آنے پر زیادہ صبر نہیں کرسکتے۔ یہ تمام احکام عالمگیری وغیرہ میں مطالعہ کرو۔
۲
؎جاریہ سے مراد لونڈی نہیں بلکہ چھوٹی بچی ہے جو اتنی تیز دوڑتی آرہی تھی جیسےکسی نے اسے اس طرح دھکا دیا ہو،دھکا کھا کر انسان بہت تیزی سے گرتا ہے۔
۳
؎یعنی ابھی ہم نے کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اس نے پہلے ہی ہاتھ ڈالنا چاہا بغیر بسم الله پڑھے ہوئے درحقیقت اسے شیطان اسی طرح بھگائے ہوئے لارہا ہے۔
۴
؎یہاں بھی یہی حال تھا کہ وہ بدوی صاحب بھی ان حضرات سے پہلے ہی بغیر بسم الله پڑھے ہوئے ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے یہاں بھی شیطان ہی کا دھوکا تھا۔
۵
؎یعنی اگر جماعت میں ایک آدمی بھی بغیر بسم الله کھانے لگے تو شیطان اس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے تم سب کو بسم الله پڑھ کر کھاتے شیطان کو ساتھ کھانے کی جرأت نہ ہوتی اس لیے وہ آگے پیچھے ان دونوں کو لایا کہ یہ بغیر بسم الله کھائے اور ان کے ذریعہ شیطان بھی کھائے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ بچے جو بسم الله پڑھ سکیں ضرور بسم الله پڑھ کر کھایا کریں ورنہ شیطان کھانے میں شریک ہوگا،ہاں بالکل بےسمجھ بچہ جوصحیح بول نہ سکے اس حکم سے علیحدہ ہے۔
۶
؎تاکہ یوں دونوں میں سے کوئی بغیر بسم الله ہاتھ نہ ڈال سکے اور شیطان کو موقع نہ ملے اس کی کوشش بیکار جائے۔
۷
؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہےبیدھمااس تثنیہ ضمیر کا مرجع وہ لڑکی اور یہ بدوی دونوں ہیں یعنی ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ شیطان کا ہاتھ بھی میرے ہاتھ میں ہے۔اس نسخہ میںبیدھاہے جس کا مرجع لڑکی ہے چونکہ پہلے وہ ہی آئی تھی اس لیے اس کا ذکر فرمایا۔اس سے معلوم ہوا جس کے ساتھ یا جس پر شیطان ہو اس کو پکڑ لینے سے وہ شیطان بھی پکڑا جاتا ہے۔بعض عاملین کو دیکھا گیا کہ وہ اس شخص کے بال یا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں جس پر شیطان سوار ہو اس سے خود شیطان قبضہ میں آجاتا ہے،اس عمل کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے۔
۸
؎ان دونوں نے بھی بسم الله پڑھ کر کھایا اور دوسرے حضرات نے بھی۔حضرات صوفیاء چشتیہ فرماتے ہیں کہ قوالی اہل کے لیے حلال ہے نا اہل کے لیے حرام،اگر مجمع میں ایک بھی نا اہل شریک ہوجائے تو سب کے لیے ممنوع کیونکہ ایک نا اہل کی شرکت سے شیطان شریک ہوجاتا ہے اور وہ کام شیطانی بن جاتا ہے،اس قول کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ اگر کھانے والوں کو جماعت میں ایک شخص بھی بغیر بسم الله شریک ہوجائے تو شیطان شریک ہوجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4237