Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4241

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِثَرِيدٍ أَمَرَتْ بِهٖ فَغُطِّيَ حَتّٰى تَذْهَبَ فَوْرَةُ دُخَانِهٖ وَتَقُولُ: أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: « هُوَ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ » . رَوَاهُمَا الدَّارمِيّ

وعن أسماء بنت أبي بكر: أنها كانت إذا أتيت بثريد أمرت به فغطي حتى تذهب فورة دخانه وتقول: أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: « هو أعظم للبركة » . رواهما الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو اس کے متعلق حکم دیتیں تو ڈھک دیا جاتا حتی کہ اس کے دھوئیں کا جوش جاتا رہتا ۱؎اور فرماتیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ عمل برکت بڑھانے والا ہے ۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ثریدکے معنی پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔شوربے میں گلائی ہوئی روٹی یعنی آپ بہت گرم کھانا نہ کھاتی تھیں اور کھانا کھول کر پھونکیں مارکر ٹھنڈا نہ کرتی تھیں بلکہ پکنے کے بعد کچھ دیر ڈھکا رہنے دیتیں جب خود ٹھنڈا ہوجاتا تو کھاتی تھیں۔
۲
؎یعنی کھانے کا قدرے ٹھنڈا ہوجانا اور پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرنا برکت کا باعث ہے اس لیے کھانے میں بھی تکلیف نہیں ہوتی،دیلمی شریف میں ہے کہ گرم کھانے میں برکت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4241