Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4235

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «العجوة من الجنة وفيها شفاء من السم والكمأة من المن وماؤها شفاء للعين » . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ عجوہ جنت سے ہے اور اس میں شفاء ہے زہر سے ۱؎اورکھمبی من سے ہے اور اس کا پانی شفا ہے آنکھ کی لیے ہے ۲؎(ترمذی)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح ہوچکی ہے یہ تاثیر یا تو ہر عجوہ کھجور میں ہے یا مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور میں،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔حق یہ ہے کہ عجوہ کھجور جنت میں ملے گی اور اس میں جنت کے پھلوں کی سی برکت ہے،اس سے تکالیف بیماری دور ہوتی ہیں اور تندرستی بحال رہتی ہے۔
۲
؎ا س کی شرح بھی گزرگئی کہ کھمبی جسے سانپ کی چھتری یا بلی کا پاؤں بھی کہتے ہیں جو برسات کے موسم میں بھیگی لکڑی میں چھتری کی طرح نمودار ہوتی ہے یا تو بنی اسرائیل کا من یہ ہی تھا یا من کی طرح یہ بھی اعلیٰ نعمت ہے جو بغیر محنت ہم کو مل جاتی ہے۔اس کا عرق آنکھ کی بعض بیماریوں میں مفید ہے لہذا کوئی بغیر طبیب حاذق کے مشورہ کے اس کا استعمال نہ کرے،یہ ہی حال تمام احادیث کی دواؤں کا ہے کہ تمام دوائیں برحق ہیں مگر ہم ان کا استعمال طبیب کی رائے سے کریں۔
۳
؎یہ حدیث احمد،ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے اور احمد،نسائی،ابن ماجہ نے ابوسعید خدری اور حضرت جابر سے روایت کی بخاری نے بروایت ابن عباس یہ زیادتی کی کہ عربی مینڈھا سیاہ رنگ کا شفا ہے عرق النساء کو کہ اس کا گوشت مریض کوکھلایا جائے اور اس کا شوربا اسے پلایا جائے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4235