Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4202

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَنَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اللّٰهَ عَلٰى طَعَامِهٖ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا أكل أحدكم فنسي أن يذكر الله على طعامه فليقل: بسم الله أوله وآخره ". رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنے کھانے پر الله کا ذکر بھول گیا ۱؎تو کہہ لے بسم الله اس کے اول میں اور اس کے آخر میں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎الله کے ذکر سے مراد بسم الله شریف پڑھنا ہے کہ کھانے کے وقت یہ ہی ذکر الله سنت ہے ہر وقت کا ذکر علیٰحدہ ہے۔خوشی کی خبر سننے کے وقت کا ذکر ہےالحمدﷲ،غم کی خبر کا ذکر ہےاناﷲ،بری بات سننے کے وقت کا ذکر ہےلاحولالخ تو کھانے کے وقت کا ذکر ہے بسم الله بلکہ وضو کرتے وقت،سوتے وقت،مسجد میں داخل ہوتے وقت بھی بسم الله پڑھنا سنت ہے۔اس جگہ بعض علماء نے فرمایا کہ ذکر الله سے مراد یہ ذکر ہے حتی کہ اگر کھاتے وقت کلمہ طیبہ بھی پڑھ لے تو بھی یہ فائدہ حاصل ہوجائے گا۔شاید یہ حضرت کھاتے وقتاناللهیالاحول ولا قوۃ الا باللهپڑھنے کو بھی مفید کہتے ہوں بہرحال قوی یہ ہے کہ یہاں ذکر الله سے مراد بسم الله شریف ہے۔
۲
؎اصل میںفی اولہ و آخرہتھافیکو دور کردیا گیا اور اول آخر کو فتحہ دیا گیا۔اول آخر سے مراد کھانے کی ساری حالات ہیں، اول آخر درمیانی حالت جیسے رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَ لَہُمْ رِزْقُہُمْ فِیۡہَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا"یہاں صبح شام سے مراد تمام اوقات ہیں یعنی جو شخص کھانا کھاتے وقت بسم الله پڑھنا بھول جائے تو درمیان میں جب یاد آجائے تب یہ کہہ لے بلکہ بعض علماء نے فرمایا کہ کھانا کھا چکنے ہاتھ دھونےلینے کلی کرلینے کے بعد یاد آوے تب بھی یہ ہی کہہ دے مگر صحیح یہ ہے کہ دوران کھانے میں یاد آتے وقت ہی کہے تاکہ شیطان کھایا ہوا کھانا قے کردے بعد فراغ یہ فائدہ حاصل نہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4202