Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4168

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: « لَا آكُلُ مُتَّكِئًا » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي جحيفة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: « لا آكل متكئا » . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں تکیہ لگا کر نہ کھاؤں گا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام وہب بن عبدالله سوائی ہے یعنی سواء ابن عامہ سے ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ نابالغ تھے مگر حضور سے روایات لی ہیں،آپ کو حضرت علی رضی الله عنہ نے وزیر خزانہ بنایا تھا،آپ حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک رہے،آپ کوفہ میں ۷۴ھ؁∞ میں فوت ہوئے،آپ سے آپ کے بیٹے عوذ نے اور بہت سے تابعین بلکہ حضرت علی نے بھی روایات لیں۔(اشعہ ومرقات)
۲
؎کھاتے وقت تکیہ لگانے کی چارصورتیں ہیں:ایک یہ کہ ایک پہلو زمین سے قریب کرکے بیٹھے،دوسرے یہ کہ چہار زانو بیٹھے،تیسرے یہ کہ ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے،چوتھے یہ کہ دیوار وغیرہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے یہ چاروں تکیے مناسب نہیں۔دو زانو یا اکڑوں بیٹھ کر کھانا اچھا ہے طبی لحاظ سے بھی مفید ہے،کھڑے ہوکر کھانا اچھا نہیں۔(اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4168