Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4221

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُسَيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهٖ فَإِنَّهٗ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ

وعن أبي أسيد الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كلوا الزيت وادهنوا به فإنه من شجرة مباركة» . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو اُسید انصاری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے روغن زیتون کھاؤ بھی لگاؤ بھی ۲؎کہ یہ برکت والے درخت سے ہے۳؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ابو اسید الف کے پیش سین کے فتحہ سے حضرت مالک ابن ربیعہ کی کنیت ہے جو مشہور صحابی ہیں،تمام غزوات میں شریک رہے،صحابہ بدر میں سب سے آخر میں آپ ہی کی وفات ہوئی، ۶۰؁∞ ساٹھ ہجری میں وفات پائی،اٹھہتر سال عمر ہوئی،آخر میں نابینا ہو گئے تھے اور ابو اسید الف کے فتحہ سین کے کسرہ سے ان کا نام عبدالله ابن ثابت ہے،مدنی ہیں،انصاری ہیں،یہاں پہلے ابو اسید مراد ہیں۔و الله ورسولہ اعلم!(مرقات)
۲
؎روغن زیتون روٹی کے ساتھ سالن بناکے کھاؤ ، سر میں اس کی مالش کرو، یہ حکم بطور مشورہ ہے لہذا استحباب کے لیے ہے۔
۳
؎کیونکہ درخت زیتون برکت والی زمین فلسطین میں ہوتا ہےجو حضرات انبیاءکرام کا مسکن ہے،نیز اسے رب تعالیٰ نے شجرہ مبارکہ فرمایا،اس کے فوائد بہت ہیں،بہت سے امراض میں زیتوں کا پھل اس کا تیل کام میں آتا ہے،یہ سالن بھی ہے،جسم اور سر کی مالش کا تیل بھی،چراغ میں روشنی بھی دیتا ہے،بہت مرضوں کا علاج بھی ہے،بواسیر میں بہت مفید ہے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ روغن زیتون میں ستر مرضوں کا علاج ہے جن میں جذام بھی ہے۔(ابونعیم و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4221