Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4208

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهٗ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهٗ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهٗ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن سلمان قال: قرأت في التوراة أن بركة الطعام الوضوء بعده فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «بركة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعده » . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمان سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا کہ ۲؎کھانے کی برکت وضو کرنا ہے کھانے کے بعد۳؎تو میں نے یہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے ذکر کیا ۴؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے کی برکت وضو کرنا ہے کھانے سے پہلے اور وضوکرنا ہے کھانے کے بعد ۵؎(ترمذی ،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ سلمان فارسی ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔
۲
؎یعنی مسلمان ہونے سے پہلے میں نے توریت میں پڑھا تھا۔
۳
؎یہاں وضو لغوی معنی میں ہے جو بنا ہے وضؤ سے بمعنی صفائی اور اچھائی لہذا اس کے معنی ہیں ہاتھ و منہ کی صفائی کرنا کہ ہاتھ دھونا کلی کرلینا ۔
۴
؎یا تو توریت شریف کے اس فرمان کی تصدیق و تائید کے لیے یا یہ پوچھنے کے لیے کہ اب اسلام میں بھی یہ حکم ہے یا دیگر احکام کی طرح منسوخ ہوگیا۔
۵
؎یعنی توریت شریف میں دوبار ہاتھ دھونے کلی کرنے کا حکم تھا کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد مگر یہود نے صرف بعد رکھا پہلے کا ذکر مٹا دیا۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کلی کرنے کی ترغیب اس لیے ہے کہ عمومًا کام کاج کی وجہ سے ہاتھ میلے دانت میلے ہوجاتے ہیں اور کھانے میں ہاتھ و منہ چکنے ہوجاتے ہیں لہذا دونوں وقت یہ صفائی کرلو کھانا کھا کر کلی کرلینے والا شخصان شاءاللهپائیوریا سے محفوظ رہتا ہے،وضو میں مسواک کرنے کا عادی دانتوں اور معدے کے امراض سے بچا رہتاہے،کھانا کھانے کے فورًا بعد پیشاب کرلینے کی عادت ڈالو اس سے گردہ و مثانہ کے امراض سے حفاظت ہے بہت مجرب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4208