Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4196

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهٖ إِلَيَّ وَإِنَّهٗ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِقَصْعَةٍ لَمْ يأكُلْ مِنْهَا لأنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهٗ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: «لَا وَلٰكِنْ أَكْرَهُهٗ مِنْ أَجْلِ رِيحِهٖ » . قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي أيوب قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتي بطعام أكل منه وبعث بفضله إلي وإنه بعث إلي يوما بقصعة لم يأكل منها لأن فيها ثوما فسألته: أحرام هو؟ قال: «لا ولكن أكرهه من أجل ريحه » . قال: فإني أكره ما كرهت. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس جب کھانا لایا جاتا تو آپ اس کھانے سے بچا ہوا مجھے بھیج دیتے تھے ۱؎آپ نے ایک دن ایک پیالہ بھیجا جس میں سے کچھ نہ کھایا تھا کیونکہ اس میں لہسن تھا۲؎میں نے حضور سے پوچھا کہ کیا وہ حرام ہے ۳؎فرمایا نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں اس کی بُو کی وجہ سے۴؎عرض کیا جسے آپ ناپسندکرتے ہیں اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جب حضور انور صلی الله علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے۔ہر مدینہ والے کی تمنا تھی کہ حضور صلی الله علیہ وسلم میرے گھر قیام فرمائیں میرے مہمان بنیں مگر یہ سعادت حضر ت ابو ایوب انصاری رضی الله عنہ کے نصیب میں تھی،حضور انور آپ کے گھر مہمان رہے،پہلے گھر کے اوپر حصے میں قیام فرمارہے،پھر نیچے حصہ میں جلوہ افروز رہے،اوپر حضرت ابو ایوب کو رکھا۔اہلِ مدینہ حضور صلی الله علیہ وسلم اور خدام بارگاہ کے لیے کھانا لاتے تھے،اہلِ مدینہ میں سب سے زیادہ غریب حضرت ابو ایوب ہی ہیں یہ ہی حضور کے پہلے میزبان ہیں۔سورج طلوع ہوکر پہلے اونچے مقامات کو لجھاتا ہے مگر مدینہ منورہ کا سورج پہلے چھوٹوں کو نیچوں کولجھاتا ہے صلی الله علیہ وسلم ۔(ازمرقات)حضرت ابو ایوب جب اوپر رہتے تھے تو اس جگہ قدم نہ رکھتے تھے جو جگہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے سر مبارک کے مقابل تھی۔
۲
؎کچا لہسن ہوگا جس کی بو نہ ماری گئی ہوگی۔
۳
؎یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا اس میں سے کچھ نہ کھانا اس وجہ سے ہے کہ وہ حرام ہے اگر حرام ہے تو حضور انور نے میرے لیے کیوں بھیجا۔سبحان الله!کیا پیارا سوال ہے۔یا وہ کھانا ہے یا لہسن جو اس کھانے میں تھا۔
۴
؎یعنی کچالہسن کھانے سے منہ میں بو آتی رہتی ہے اورہمارے پاس فرشتے خصوصًا حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوتے رہتے ہیں جن سے ہم کلامی رہتی ہے۔ان فرشتوں کو منہ کی بو ناپسند ہے اس لیے ہم یہ چیزیں نہیں کھاتے تم کو یہ ملاقات ملائکہ کا شرف حاصل کہاں ہے تم کھاؤ۔
۵
؎یہ ہے درجہ فنا فی الرسول یعنی اگرچہ میرے اندر وہ وجہ نہیں جس وجہ سے آپ لہسن نہیں ملاحظہ فرماتے یعنی فرشتوں سے ہم کلامی مگر میرے لیے تو آپ کا پسند فرمانا وجہ پسندیدگی ہے۔مطلب یہ ہے کہ مجھے بھی اس سے طبعًا نفرت ہوگئی اب میری طبیعت لہسن سے نفرت کرنے لگی اس لیےکرھتفرمایالا اکلنہ کہا، ان کی طبیعت حضور صلی الله علیہ وسلم کے تابع ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4196