Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4227

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبُنَّةٍ فِي تَبُوكَ فَدَعَا بِالسِّكِّينِ فَسَمّٰى وقطَعَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عمر قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بجبنة في تبوك فدعا بالسكين فسمى وقطع. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے پاس تبوک میں ۱؎پنیر لایا گیا تو آپ نے چھری منگائی پھر بسم الله پڑھی اور کاٹا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎مدینہ منورہ سے خیبر قریبًا ایک سو ساٹھ میل ہے،خیبر سے تبوک پانچ سو میل،یہ شام کے ملک میں واقع ہے۔یہ فقیر تبوک کے اوپر سے ہوائی جہاز سے اڑتا ہواگزرا ہے،خیبر میں حاضری دی ہے،اب بھی تبوک آباد ہے۔غزوہ تبوک مشہور غزوہ ہے،اس میں یہ واقعہ پیش آیا۔تبوک منصرف بھی پڑھا جاتا ہےغیرمنصرف بھی۔ (مرقات)
۲
؎پنیر کے ٹکڑے اب بھی چھری سے کاٹ کر کھائے جاتے ہیں یہ دہی کی طرح ڈھیلا نہیں ہوتا یعنی حضور انور نے چھری سے کاٹا اور کھایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4227