Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4225

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ أَبُوْدَاوُدَ: وَيَقُولُ: يَكْسِرُ حَرَّ هٰذَا بِبَرْدِ هٰذَا وَبَرْدَ هٰذَا بِحَرِّ هٰذَا . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأكل البطيخ بالرطب. رواه الترمذي وزاد أبوداود: ويقول: يكسر حر هذا ببرد هذا وبرد هذا بحر هذا . وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم تربوز کھجور کے ساتھ کھاتے تھے۔ (ترمذی) اور ابوداؤد نے یہ زیادہ فرمایا کہ فرماتے تھے اس کی گرمی اس کی ٹھنڈک سے ٹوٹ جائے گی اور اس کی ٹھنڈک اس کی گرمی سے،ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎جس سے تربوز تو کھجور سے میٹھا ہوجاتا اور کھجور تربوز سے تر ہوجاتی تھی،نیز تربوز ٹھنڈا ہے کھجور گرم، دونوں مل کر معتدل ہوجاتے تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہبطیخ اصغرخربوزہ کو کہتے ہیں اوربطیخ اخضرتربوز کو،یہاںبطیخ اخضریعنی تربوز مراد ہےلیکن تربوز ہی ٹھنڈا ہوتا ہے خربوزہ تو خود گرم ہے۔بعض شارحین نے اس کے معنی خربوزہ کئے مگر قوی وہ ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4225