Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4179

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «التلبينة مجمة لفؤاد المريض تذهب ببعض الحزن»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے جناب عائشہ رضی الله عنھا سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ لُپٹا بیمار کے دل کو تسلی بخش ہے ۱؎یہ بعض رنج کو دورکرتا ہے ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تلبینہبنا ہےلبنبمعنی دودھ سے،عرب میں آٹا یا بھوسی کو پتلا پتلا پکاتےہیں اس میں کچھ دودھ کچھ شہد ڈالتے ہیں اسے اردو میں لُپٹا اور پنجاب میں سیرہ کہتے ہیں۔یہ چونکہ دودھ کی طرح سفید اور پتلا ہوتا ہے اس لیے تلبینہ کہا جاتا ہے،یہ بہت ہلکی غذا ہے زود ہضم ہے،اکثر بیماروں کو دیا جاتا ہے،یہ پیٹ میں بوجھ نہیں کرتا دل کو قوت بخشتا ہے۔مرقات وغیرہ نے فرمایا کہ اس سے دل کی گھبراہٹ بھی دور ہوجاتی ہے بہت اعلیٰ چیز ہے۔الله تعالٰی نے حضور کو حکمت بھی بخشی ہے۔مجمہبنا ہےجمامسے بمعنی راحت۔
۲
؎بعض رنج سے مراد وہ رنج ہے جو بیماری کی کمزوری کی وجہ سے ہو۔جو رنج بیرونی فکر کی وجہ سے ہو اس کے لیے بھی اسے مفید فرمایا گیا مگر بیماری کے رنج کے لیے بہت مفید ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4179