Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4201

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُرِّبَ طَعَامٌ فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهٖ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ هٰذَا؟ قَالَ: « ذَكَرْنَا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ حِينَ أَكَلْنَا ثُمَّ قَعَدَ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ اللّٰهَ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”.

عن أبي أيوب قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقرب طعام فلم أر طعاما كان أعظم بركة منه أول ما أكلنا ولا أقل بركة في آخره قلنا: يا رسول الله كيف هذا؟ قال: « ذكرنا اسم الله عليه حين أكلنا ثم قعد من أكل ولم يسم الله فأكل معه الشيطان» . رواه في “شرح السنة”.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس تھے کہ کوئی کھانا پیش کیاگیا ۱؎تو میں نے ایسا کھانا نہ دیکھا جو ہمارے اول کھاتے وقت بہت برکت والا ہو اور آخر میں کم برکت والا ہو ۲؎ہم نے عرض کیایارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ کیسے ہوگیافرمایا ہم نے کھانے کے وقت اس پر الله کے نام کا ذکر کیا تھا۳؎پھر وہ بیٹھ گیا جس نے کھایا اور الله کا نام نہ لیا تو اسکے ساتھ شیطان نے کھایا ۴؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ یا تو اس زمانہ کا ہے جب حضور صلی الله علیہ وسلم آپ کے گھر میں رونق افروز تھے یا اسکے بعد اورکسی وقت کا،حضرت ابو ایوب حضور کے پہلے میزبان ہیں۔
۲
؎یعنی جب ہم نے کھانا شروع کیا تو اس میں بڑی برکت دیکھی اور جب فارغ ہونے لگے تو اس کھانے میں بہت ہی بے برکتی محسوس کی۔برکت اورکثرت کا فرق ہم بارہا بیان کرچکے کثرت کمال نہیں برکت کمال ہے،الله تعالیٰ ہر دینی و دنیاوی کاموں چیزوں میں برکت دے۔
۳
؎یعنی کھانا کھاتے وقت بسم الله پڑھی تھی۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ صرف بسم الله پڑھنا کافی ہے۔باقی الرحمن الرحیم کہہ لینا بھی بہتر ہے مگر صحیح یہ ہے کہ پوری بسم الله پڑھنی چاہیے اور ہر کھانے پر ہر شخص پڑھے حتی کہ حیض و نفاس والی عورتیں بھی پڑھیں،حرام اور مکروہ کھانے پر نہ پڑھے بھنگ،چرس،حقہ پر بسم الله نہ پڑھے،شراب نوشی پر بسم الله پڑھنا کفر ہے۔(مرقات وغیرہ)اس کے پورے مسائل کتب فقہ میں مطالعہ کرو۔
۴
؎یعنی کھانا شروع کرتے وقت ہم میں سے ہرشخص نے بسم الله پڑھی تھی دوران کھانے میں ایک شخص کھانے میں ایسا شریک ہوگیا جس نے بسم الله نہ پڑھی اور کھانا شروع کردیا تو اس کے ساتھ جو شیطان قرین تھا وہ اس کے ہمراہ ہمارے کھانے سے کھانے لگا اس لیے بے برکتی آخری میں ہوگئی۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کے ساتھ رہنے والا شیطان ہے جسے قرین کہتے ہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے کے وقت ہر شخص کا بسم الله پڑھ لینا اس کے ساتھی شیطان کے لیے مفید ہوگا دوسرے کے قرین کے لیے مفید نہیں لہذا ہرشخص کو بسم الله پڑھنی چاہیے،اگر پچاس آدمی کی جماعت کھانے بیٹھے تو ہرشخص علیٰحدہ بسم الله پڑھے لہذا بسم الله پڑھنا سنت عین ہے سنت کفایہ نہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اگر کوئی جماعت کھانے بیٹھے تو بسم الله پڑھنا سنت کفایہ ہے کہ اگر ایک شخص نے پڑھ لی تو سب کے لیے کافی ہوگئی اور جوشخص بعد میں کھانے میں شریک ہوا اسے علیحدہ بسم الله پڑھنی پڑے گی،وہ حضرات لفظثمسے دلیل پکڑتے ہیں مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے جیسا کہانا ذکرناجمع فرمانے سے معلوم ہوا ہرشخص نے بسم الله پڑھی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4201