Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4233

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: أُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيْرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ فَخَبَطْتُّ بِيَدِي فِي نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرٰى عَلٰى يَدِيَ الْيُمْنٰى ثُمَّ قَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهٗ طَعَامٌ وَاحِدٌ» . ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ التَّمْرِ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ فَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهٗ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بَلَلَ كَفَّيْهِ وَجْهَهٗ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهٗ وَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ هٰذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عكراش بن ذؤيب قال: أتينا بجفنة كثيرة الثريد والوذر فخبطت بيدي في نواحيها وأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين يديه فقبض بيده اليسرى على يدي اليمنى ثم قال: «يا عكراش كل من موضع واحد فإنه طعام واحد» . ثم أتينا بطبق فيه ألوان التمر فجعلت آكل من بين يدي وجالت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الطبق فقال: «يا عكراش كل من حيث شئت فإنه غير لون واحد» ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه ومسح بلل كفيه وجهه وذراعيه ورأسه وقال: «يا عكراش هذا الوضوء مما غيرت النار» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عکراش ابن ذویب سے ۱؎فرماتے ہیں ہمارے پاس بہت ثرید اور گوشت والا پیالہ لایا گیا ۲؎تو میں نے اس کے کناروں میں ہاتھ مارا ۳؎اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سامنے سے کھایا ۴؎پھر حضور نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑ لیا ۵؎فرمایا اے عکراش ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ یہ ایک ہی کھانا ہے ۶؎پھر ہمارے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں قسم قسم کے چھوہارے تھے تو میں اپنے سامنے سے کھانے لگا ۷؎اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ طباق میں گھومنے لگا ۸؎پھر فرمایا اے عکراش جہاں سے چاہو کھاؤ کہ یہ ایک قسم سے زیادہ ہے ۹؎پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تری اپنے چہرے اور کہنیوں اور سر پر مل لی ۱۰؎اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس سے جسے آگ پکاوے ۱۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تمیمی ہیں،بصرہ میں قیام رہا،آپ ہی اپنی قوم کے صدقات لےکر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تھے۔
۲
؎ثریدکے معنی پہلے بیان ہوچکے کہ گوشت میں بھیگی ہوئی گلائی ہوئی روٹی جس میں بوٹی(شوربا)روٹی یک جان کرلی جائیں۔وذرجمع ہےوذرۃکی بمعنی گوشت کے ٹکڑے بغیر ہڈی والے یعنی چھوٹی بوٹیاں۔ (مرقات،لمعات)
۳
؎یعنی ہر طرف سے کھانا شروع کیا۔خبطتبنا ہےخبطسے بمعنی اونٹ کا چارہ چرنا،چونکہ اونٹ ہر طرف سے کھاتا ہے اس لیے ہر طرف سے کھانے کوخبطکہا جاتا ہے۔
۴
؎حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا اپنے سامنے سے کھانا حضرت عکراش کی تعلیم کے لیے کہ انہیں کھانے کا طریقہ آجائے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم ہر طرف سے کھاسکتے کیونکہ آپ اپنے خادم کے ساتھ کھارہے تھے لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور انور کے ساتھ حضرت انس کھارہے تھے تو آپ پیالہ میں ہر طرف سے کدو تلاش کرکے کھاتے رہے ،وہ عمل بھی تعلیم کے لیے تھا۔معلوم ہوا کہ عالم قولی تبلیغ کے ساتھ عملی تبلیغ بھی کرے،حضور صلی الله علیہ وسلم نے چالیس سال عملی تبلیغ فرماکر پھر ظہور نبوت کے بعد قولی تبلیغ کی۔
۵
؎کیونکہ حضور انور کا بایاں ہاتھ صاف تھا داہنے ہاتھ میں سالن کا اثر تھا،حضرت عکراش کے داہنے کا اوپر کا حصہ صاف تھا۔
۶
؎اور جب کھانا ایک ہو تو ہر طرف سے کھانا حریص ہونے کی علامت ہے کہ دوسرے کے سامنے بوٹی یا روغن لےکر کھایا جائے لہذا صرف اپنے سامنے سے کھاؤ۔(مرقات)
۷
؎یہ ہے حضور انور کے فرمان پر عمل کہ اب اس طباق میں بھی حضرت عکراش کا ہاتھ گردش نہیں کرتا،ان ہاتھوں پر قربان۔
۸
؎اب ہاتھ شریف کی گردش بھی تعلیم کے لیے تھی کہ اے عکراش ہم کو دیکھو ہم ہر طرف سے کھارہے ہیں تم بھی ہر طرف سے کھاؤ۔
۹
؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اگر پھل مٹھائی بھی ایک قسم ہو تو ہر شخص اپنے سامنے سے ہی کھائے،اگر چند قسم کی ہو تو جہاں سے جو چاہے اٹھالے مگر پھر بھی درمیان سے نہ کھائے بلکہ دوسرے کناروں سے کھا سکتا ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ اگر برتن میں اکیلا آدمی ہی کھارہا ہے تب بھی اپنے سامنے سے ہی کھائے کہ یہ ہی سنت ہے جب کہ ایک ہی کھانا ہو۔
۱۰
؎یہ اس لیے کہ اس وقت رومال موجود نہ تھا بیان جواز کے لئے کہ اسی طرح اعضاء پر اپنے تر ہاتھ خشک کر لینا بھی جائز ہے۔خیال رہے کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئے تو انہیں نہ پونچھے اور جب کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے تو پونچھ لے اس میں بڑی حکمت ہے۔
۱۱
؎یعنی وہ جو ہم نے فرمایا ہے کہ آگ کی پکی چیز کھانے سے وضو کرے وہاں وضو سے مراد ہے یہ ہی ہاتھ دھونا کلی کرنا ہے نہ کہ نماز کا وضو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4233