- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- کھانوں کا بیان
- حدیث نمبر 4233
باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4233
کھانوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 4159
- 4160
- 4161
- 4162
- 4163
- 4164
- 4165
- 4166
- 4167
- 4168
- 4169
- 4170
- 4171
- 4172
- 4173
- 4174
- 4175
- 4176
- 4177
- 4178
- 4179
- 4180
- 4181
- 4182
- 4183
- 4184
- 4185
- 4186
- 4187
- 4188
- 4189
- 4190
- 4191
- 4192
- 4193
- 4194
- 4195
- 4196
- 4197
- 4198
- 4199
- 4200
- 4201
- 4202
- 4203
- 4204
- 4205
- 4206
- 4207
- 4208
- 4209
- 4210
- 4211
- 4212
- 4213
- 4214
- 4215
- 4216
- 4217
- 4218
- 4219
- 4220
- 4221
- 4222
- 4223
- 4224
- 4225
- 4226
- 4227
- 4228
- 4229
- 4230
- 4231
- 4232
- 4233
- 4234
- 4235
- 4236
- 4237
- 4238
- 4239
- 4240
- 4241
- 4242
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: أُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيْرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ فَخَبَطْتُّ بِيَدِي فِي نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرٰى عَلٰى يَدِيَ الْيُمْنٰى ثُمَّ قَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهٗ طَعَامٌ وَاحِدٌ» . ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ التَّمْرِ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ فَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهٗ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بَلَلَ كَفَّيْهِ وَجْهَهٗ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهٗ وَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ هٰذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعن عكراش بن ذؤيب قال: أتينا بجفنة كثيرة الثريد والوذر فخبطت بيدي في نواحيها وأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين يديه فقبض بيده اليسرى على يدي اليمنى ثم قال: «يا عكراش كل من موضع واحد فإنه طعام واحد» . ثم أتينا بطبق فيه ألوان التمر فجعلت آكل من بين يدي وجالت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الطبق فقال: «يا عكراش كل من حيث شئت فإنه غير لون واحد» ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه ومسح بلل كفيه وجهه وذراعيه ورأسه وقال: «يا عكراش هذا الوضوء مما غيرت النار» . رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عکراش ابن ذویب سے ۱؎فرماتے ہیں ہمارے پاس بہت ثرید اور گوشت والا پیالہ لایا گیا ۲؎تو میں نے اس کے کناروں میں ہاتھ مارا ۳؎اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سامنے سے کھایا ۴؎پھر حضور نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑ لیا ۵؎فرمایا اے عکراش ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ یہ ایک ہی کھانا ہے ۶؎پھر ہمارے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں قسم قسم کے چھوہارے تھے تو میں اپنے سامنے سے کھانے لگا ۷؎اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ طباق میں گھومنے لگا ۸؎پھر فرمایا اے عکراش جہاں سے چاہو کھاؤ کہ یہ ایک قسم سے زیادہ ہے ۹؎پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تری اپنے چہرے اور کہنیوں اور سر پر مل لی ۱۰؎اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس سے جسے آگ پکاوے ۱۱؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎آپ تمیمی ہیں،بصرہ میں قیام رہا،آپ ہی اپنی قوم کے صدقات لےکر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تھے۔
۲؎ثریدکے معنی پہلے بیان ہوچکے کہ گوشت میں بھیگی ہوئی گلائی ہوئی روٹی جس میں بوٹی(شوربا)روٹی یک جان کرلی جائیں۔وذرجمع ہےوذرۃکی بمعنی گوشت کے ٹکڑے بغیر ہڈی والے یعنی چھوٹی بوٹیاں۔ (مرقات،لمعات)
۳؎یعنی ہر طرف سے کھانا شروع کیا۔خبطتبنا ہےخبطسے بمعنی اونٹ کا چارہ چرنا،چونکہ اونٹ ہر طرف سے کھاتا ہے اس لیے ہر طرف سے کھانے کوخبطکہا جاتا ہے۔
۴؎حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا اپنے سامنے سے کھانا حضرت عکراش کی تعلیم کے لیے کہ انہیں کھانے کا طریقہ آجائے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم ہر طرف سے کھاسکتے کیونکہ آپ اپنے خادم کے ساتھ کھارہے تھے لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور انور کے ساتھ حضرت انس کھارہے تھے تو آپ پیالہ میں ہر طرف سے کدو تلاش کرکے کھاتے رہے ،وہ عمل بھی تعلیم کے لیے تھا۔معلوم ہوا کہ عالم قولی تبلیغ کے ساتھ عملی تبلیغ بھی کرے،حضور صلی الله علیہ وسلم نے چالیس سال عملی تبلیغ فرماکر پھر ظہور نبوت کے بعد قولی تبلیغ کی۔
۵؎کیونکہ حضور انور کا بایاں ہاتھ صاف تھا داہنے ہاتھ میں سالن کا اثر تھا،حضرت عکراش کے داہنے کا اوپر کا حصہ صاف تھا۔
۶؎اور جب کھانا ایک ہو تو ہر طرف سے کھانا حریص ہونے کی علامت ہے کہ دوسرے کے سامنے بوٹی یا روغن لےکر کھایا جائے لہذا صرف اپنے سامنے سے کھاؤ۔(مرقات)
۷؎یہ ہے حضور انور کے فرمان پر عمل کہ اب اس طباق میں بھی حضرت عکراش کا ہاتھ گردش نہیں کرتا،ان ہاتھوں پر قربان۔
۸؎اب ہاتھ شریف کی گردش بھی تعلیم کے لیے تھی کہ اے عکراش ہم کو دیکھو ہم ہر طرف سے کھارہے ہیں تم بھی ہر طرف سے کھاؤ۔
۹؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اگر پھل مٹھائی بھی ایک قسم ہو تو ہر شخص اپنے سامنے سے ہی کھائے،اگر چند قسم کی ہو تو جہاں سے جو چاہے اٹھالے مگر پھر بھی درمیان سے نہ کھائے بلکہ دوسرے کناروں سے کھا سکتا ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ اگر برتن میں اکیلا آدمی ہی کھارہا ہے تب بھی اپنے سامنے سے ہی کھائے کہ یہ ہی سنت ہے جب کہ ایک ہی کھانا ہو۔
۱۰؎یہ اس لیے کہ اس وقت رومال موجود نہ تھا بیان جواز کے لئے کہ اسی طرح اعضاء پر اپنے تر ہاتھ خشک کر لینا بھی جائز ہے۔خیال رہے کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئے تو انہیں نہ پونچھے اور جب کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے تو پونچھ لے اس میں بڑی حکمت ہے۔
۱۱؎یعنی وہ جو ہم نے فرمایا ہے کہ آگ کی پکی چیز کھانے سے وضو کرے وہاں وضو سے مراد ہے یہ ہی ہاتھ دھونا کلی کرنا ہے نہ کہ نماز کا وضو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4233