Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4167

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهٖ حَتّٰى يَحْضُرَهٗ عِنْدَ طَعَامِهٖ فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمْ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهٗ فَإِنَّهٗ لَا يَدْرِي: فِي أَيِّ طَعَامِهٖ يَكُونُ الْبَرَكَةُ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه حتى يحضره عند طعامه فإذا سقطت من أحدكم اللقمة فليمط ما كان بها من أذى ثم ليأكلها ولا يدعها للشيطان، فإذا فرغ فليلعق أصابعه فإنه لا يدري: في أي طعامه يكون البركة؟ ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس اس حالت میں موجود رہتا ہے ۱؎حتی کہ اس کے کھانے کے وقت بھی آموجود ہوتا ہے تو جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو جو اس میں گندگی ہو وہ دورکردے ۲؎پھر اسے کھالے اور اسے شیطان کےلیے نہ چھوڑے۳؎پھرجب فارغ ہوجائے تواپنی انگلیاں چاٹ لے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہوگی ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎کھاتے پیتے وقت،پیشاب پاخانہ،نماز و دعا حتی کہ اپنی بیوی سے صحبت کرتے وقت بھی قرینی شیطان انسان کے ساتھ رہتا ہے ساتھ ہی کھاتا پیتا حتی کہ ساتھ ہی صحبت کرتا ہے جس سے کھانے میں بہت بے برکتی ہوتی ہے اور اولاد بے ادب سرکش ہوتی ہے،اگر ان اوقات میں بسم الله پڑھ لی جائے تو کھانوں میں برکت ہوتی ہے اولاد نیک و صالح اور با ادب پیدا ہوتی ہے،اگر پاخانہ جاتے وقت بسم الله پڑھ لی جائے تو شیطان اس کا ستر نہیں دیکھ سکتا۔
۲
؎اگر گرے ہوئے لقمہ میں مٹی وغیرہ پاک چیز لگ گئی ہے تو اسے صاف کرکے لقمہ کھائے اور اگر نجاست لگ گئی ہے تو دھوکر کھالے،اگر دھل نہ سکے تو کتے بلی کو کھلادے یوں ہی نہ چھوڑ دے کہ اسمیں مال ضائع کرنا ہے اور رب تعالٰی کی نعمت کی ناقدری ہے۔
۳
؎کہ اس چھوڑے ہوئے لقمہ کو یا تو شیطان کھا ہی لے گا یا اسکے ضائع ہونے پر خوش ہوگا شیطان کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔
۴
؎لہذ کچھ بھی نہ چھوڑے سب ہی چاٹ لے،اگر فی آدمی ایک ماشہ کھانا بھی برتن میں لگا رہا جو برتن دھوتے ہوئے نالیوں میں گیا تو حساب لگالو کہ جس شہر میں آٹھ دس لاکھ آدمی رہتے ہوں تو دو دفعہ کتنا کھانا نالیوں میں جاتا ہے،یہ فضول خرچی بھی ہے،مال ضائع کرنا بھی،کھانے کی بے ادبی بھی اس لیے کچھ بھی نہ چھوڑو برتن کو اچھی طرح صاف کرو کھانے کا احترام و ادب یہ ہی ہے یا اتنا چھوڑو کہ دوسرا آدمی کھاسکے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4167