Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4187

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا وَفِي رِوَايَةٍ: يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلًا ذَرِيعًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أنس قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم مقعيا يأكل تمرا وفي رواية: يأكل منه أكلا ذريعا. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اکڑوں بیٹھے دیکھا ۱؎کہ چھوہارے کھاتے تھے اور ایک روایت ہے کہ تیزی سے چھوہارے کھاتے تھے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اقعاعاس بیٹھک کو کہتے ہیں کہ چوتڑ زمین پر لگے ہوں دونوں پنڈلیاں کھڑی ہوں یعنی اوکڑوں۔یہ بیٹھک نماز میں مکروہ ہے کھاتے وقت بہتر کیونکہ یہ بیٹھک جلدی کے اظہار کے لیے ہوتی ہےنماز میں سکون کا اظہار چاہیے نہ کہ جلدی اور تیزی کا، کھانے میں جلدی اور تیزی تاکہ اس سے جلد فارغ ہوکر عبادت یا اورکسی دینی کام میں مشغول ہوجائیں۔مطیع فرمانبردار غلام اوکڑوں بیٹھ کر کھاتے ہیں کہ منہ میں نوالہ ہے کان لگے ہیں آقا کی آواز کی طرف کہ کب وہ بلائے اور کب یہ فورًا اٹھ کر جائے،نیز اوکڑوں بیٹھ کر کھانے سے زیادہ کھانا نہیں کھایا جاتا۔غرضیکہ کہ کھانے کی اس نشست میں بہت حکمتیں ہیں۔
۲
؎کھانے میں یہ تیزی اور جلدی یا تو سخت بھوک کی وجہ سے تھی یا کسی کام کی جلدی تھی یا وہ ہی حکمت تھی کہ جلد کھاکر دوسرے کام میں مشغول ہوجائیں کھانا مقصود للغیر ہے عبادت مقصود بالذات۔(مرقات و اشعہ)غرضیکہ اس جلدی میں بھی حکمتیں تھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4187