Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4171

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَا رَأٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللّٰهُ حَتّٰى قَبَضَهُ اللّٰهُ وَ قَالَ: مَا رَأٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخِلًا مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللّٰهُ حَتّٰى قَبَضَهُ اللّٰهُ قِيلَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهٗ وَنَنْفُخُهٗ فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن سهل بن سعد قال: ما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم النقي من حين ابتعثه الله حتى قبضه الله و قال: ما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم منخلا من حين ابتعثه الله حتى قبضه الله قيل: كيف كنتم تأكلون الشعير ؟ قال: كنا نطحنه وننفخه فيطير ما طار وما بقي ثريناه فأكلناه. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میدہ نہ دیکھا ۱؎جب سے الله نے آپ کو مبعوث فرمایا ۲؎حتی کہ الله نے آپ کو وفات دی اور فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چھلنی نہ دیکھی جب سے الله نے آپ کو مبعوث فرمایا حتی کہ الله نے آپ کو وفات دی ۳؎کہا گیا کہ آپ حضرات جَو کیسے کھاتے تھے فرمایا ہم انہیں پیس لیتے تھے اور اسے پھونکتے تھے جو اڑتا اڑ جاتا جو باقی بچتا ہم گوندھ لیتے پھر کھالیتے ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میدہ کھانا تو بہت دور کبھی ملاحظہ بھی نہ فرمایا۔الله کی شان ہے کہ اب مدینہ منورہ میں میدہ کی روٹی عام ہے آٹے کی روٹی بہت کم ملتی ہے اور کہتے ہیں میدہ کی روٹی بہت قسم کی ہوتی ہے مغربی،شامی وغیرہ۔
۲
؎یعنی ظہور نبوت کے بعد میدہ کی روٹی ملاحظہ نہ فرمائی۔اس سے پہلے حضور انور نے شام کا سفر کیا ہے اور بحیرہ راہب کی دعوت میں میدہ کی روٹی ملاحظہ فرمائی ہے۔اس زمانہ میں شام و روم میں میدہ کی روٹی بہت مروج تھی۔بعد اعلان نبوت حضور حجاز میں رہے اور مال سے بے رغبتی بھی بہت رہی۔(مرقات)
۳
؎سبحان الله!یہ ہے حضور کی سادہ اور بے تکلف زندگی۔
۴
؎بعض روایات میں ہے کہ کسی صاحب نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے تمنا کی کہ میں حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا کھانا کھاؤں،آپ فرمانے لگیں تم نہ کھا سکو گے یہ تو ان کی ہی شان تھی جو کھا گئے اور واقعہ ہے کہ ہم گندم کی روٹی بے چھنے آٹے کی نہیں کھاسکتے چہ جائیکہ جو کی روٹی وہ بھی بے چھنے آٹے کی۔شعر
کھانا جو دیکھو جو کی روٹی بے چھنا آٹا روٹی بھی موٹی وہ بھی شکم بھر روز نہ کھانا صلی الله علیہ وسلم
جس کی تمنا روز نہ کھانا اک دن ناغہ اک دن کھانا جس دن کھانا شکر کا کرنا صلی الله علیہ وسلم
قبضہ میں جس کے ساری خدائی اس کا بچھونا ایک چٹائی نظروں میں کتنی ہیچ ہے دنیا صلی الله علیہ وسلم

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4171