Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4216

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِقَالَتْ: دَخَلَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهٗ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَهٗ يَأْكُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِيٍّ: «مَهْ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ نَاقِهٌ» قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«يَا عَلِيُّ مِنْ هٰذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهٗ أَوْفَقُ لَكَ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن أم المنذرقالت: دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي ولنا دوال معلقة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل وعلي معه يأكل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: «مه يا علي فإنك ناقه» قالت: فجعلت لهم سلقا وشعيرا فقال النبي صلى الله عليه وسلم:«يا علي من هذا فأصب فإنه أوفق لك».رواه أحمد والترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام منذر سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میرے پاس نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے ساتھ جناب علی تھے اور ہمارے ہاں خوشے لٹکے ہوئے تھے ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کھانے لگے اور علی بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے۳؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جناب علی سے فرمایا اے علی ٹھہرو۴؎کیونکہ تم کمزور ہو ۵؎فرماتی ہیں پھر میں نے ان حضرات کے لیے چقندر اور جو تیار کیے ۶؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے علی اس سے لو کیونکہ یہ تمہارے لیے بہت موافق ہے ۷؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام لیلی بنت قیس ہے،انصاریہ عدویہ ہیں،کنیت ام المنذر،صحابیہ ہیں،قدیم الاسلام ہیں،چنانچہ آپ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے۔
۲
؎دوالیجمع ہےدالیہکی،دالیہکچی کھجوروں کے خوشوں کو کہتے ہیں۔اس زمانہ میں باغ والے لوگ اپنے باغوں اور گھروں میں کھجوروں کے خوشے لٹکا دیتے تھے تاکہ جو بیلی ملاقاتی آئے پہلے ان میں سے کھائے گویا یہ بھی خاطر تواضع کا ایک طریقہ تھا۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ دونوں حضرات نے کھڑے کھڑے کھائے مگر یہ کھڑے کھڑے کھانا فیشن کے طور پر نہ تھا بلکہ اس خوشے سے توڑ توڑ کر کھانا کھڑے ہو کر ہی ممکن تھا اور ہوسکتا ہے کہ بیٹھ کرکھاتے ہوں مگر بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد جناب علی رضی الله عنہ بیٹھ گئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھانا کھڑے ہو کر تھا،مرقات نے اس کو ترجیح دی۔
۴
؎یعنی تم نہ کھاؤ کہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لو وجہ آگے آرہی ہے۔
۵
؎ناقہبنا ہےنقاھتسے۔نقاہت وہ کمزوری ہے جو بیماری سے اٹھنے کے بعد بیمار میں رہتی ہے،غالبًا آپ بیمار رہ چکے ہوں گے۔
۶
؎یعنی میں ان حضرات کے لیے چقندر اور جو کا لپٹا(سیرا)تیار کیا۔لہمکا مرجع حضور صلی الله علیہ وسلم میں ضمیر کا جمع لانا تعظیمًا ہے یا اس کا مرجع حضرت علی رضی الله عنہ اور نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں۔عرب والے کبھی دو کو جمع بول دیتے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ کچھ اور صحابہ بھی حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔والله اعلم!۷؎یہاںاوفقبمعنی موافق ہے، مقابل ضرر کا،یعنی تمہارے لیے کھجوریں مضر ہیں،یہ لپٹا(سیرا)موافق و مفید ہے کیونکہ جَو بہت ہی زود ہضم ہے۔اطباء بیماروں کو آتش جو بتاتے ہیں،چقندر بھی ہلکی غذاہے اور معتدل ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم حکیم جسمانی بھی ہیں۔دوائیں،پرہیز،مضر و مفید غذائیں سب کچھ جانتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار بلکہ بیماری سے اٹھنے والے کمزور کو پرہیز لازم ہے۔اطباء کہتے ہیں کہ دوا سے زیادہ پرہیز ضروری ہے دوا بغیر پرہیز ایسی ہے جیسے نماز بغیر وضو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4216