Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4234

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فصُنعَ ثمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ وَكَانَ يَقُولُ: «إِنَّهٗ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ، وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ، كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ

وعن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أخذ أهله الوعك أمر بالحساء فصنع ثم أمرهم فحسوا منه وكان يقول: «إنه ليرتو فؤاد الحزين، ويسرو عن فؤاد السقيم، كما تسرو إحداكن الوسخ بالماء عن وجهها» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے گھر والوں کوجب بخار آتا تو آپ سیرے(لپٹا)کا حکم دیتے وہ تیار کیاجاتا پھر انہیں حکم دیتے تو وہ اس سے پیتے ۱؎اور فرماتے کہ یہ غمگین کے دل کو قوت دیتا ہے اور بیمار کے دل سے تنگی دور کرتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے سے پانی کے ذریعہ میل دور کرتی ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حساجاننے کی چیز کو کہتے ہیں،یہ آٹے،گھی،شکر سے تیار کیا جاتا ہے،اتنا پتلا کہ پیا جاسکتا ہے جسے پنجابی میں سیرا کہتے ہیں، اردو میں لپٹا،عربی میںحسا،یہ نہایت لذیذ نرم اور زود ہضم ہوتا ہے بہت طاقت کی چیز ہے یعنی لپٹا سیرا غمگین اور بیمار دونوں کے لیے مفید ہے کہ اس سے غم بھی غلط ہوتا ہے اور دل کی کمزوری گھبراہٹ و تنگی جو بیماری سے پیدا ہوتی ہے جاتی رہتی ہے اب بھی اس کا تجربہ ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4234